محمود عباس دوبارہ صدر نہیں بنیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ تین سال بعد حالیہ صدارتی عہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد وہ دوبارہ صدارتی ذمہ داری نہیں سنبھالیں گے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’میں بس اپنے بقیہ تین سال کی مدت مکمل کروں گا اور دوبارہ صدر نہیں بنوں گا۔ یہ بات یقینی ہے۔’ محمود عباس کا یہ بیان فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے انتقال کے قریباً ایک سال بعد ایک فلسطینی روزنامے میں شائع ہوا ہے۔ یاسر عرفات کی وفات کے بعد انتخابات میں عباس کو اس عہدے کے لیے چنا گیا تھا۔ محمود عباس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے قائم مقام رہنما احود اولمرٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اولمرٹ نے جنوری کے آغاز ہی سے اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون کی علالت کے بعد ان کی جگہ سنبھال رکھی ہے۔ عباس نے قائم مقام اسرائیلی وزیر اعظم کے بارے میں کہا ’میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں اور ماضی میں بھی ان سے معاملات طے کرچکا ہوں۔ مختلف امور پر ان کے اپنے نظریات ہیں، تاہم ہم پھر بھی کھلے ذہن کے ساتھ ان کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں‘۔ تین سال بعد فلسطین کے متوقع انتخابات کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’اگرچہ میں ایک اور میعاد کے لیے یہ ذمہ داری اٹھا سکتا ہوں لیکن مجھے معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوگا‘۔ اس ماہ کے آخر میں فلسطین میں پارلیمانی انتخابات متوقع ہیں جن کے بارے میں عام خیال ہے کہ محمود عباس کی جماعت ’فتح‘ کی نسبت ان کی سیاسی حریف جماعت ’حماس‘ کو کامیابی حاصل ہوگی۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||