BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 October, 2005, 00:16 GMT 05:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انسانیت کے خلاف جنگ‘: بش
جارج بش ایک تھِنک ٹینک سے خطاب کررہے تھے
جارج بش ایک تھِنک ٹینک سے خطاب کررہے تھے
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ القاعدہ اور دیگر اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے عراق میں کی جانے والی سورش انسانیت کے خلاف جنگ کے ان کے وسیع تر لائحۂ عمل کا ایک حصہ ہے۔

صدر بش نے ایک خطاب میں کہا کہ اسلامی شدت پسند اسپین سے لیکر انڈونیشیا تک ایک ریڈیکل اسلامِک سامراج قائم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ سوچنا ایک خطرناک خام خیالی ہوگی کہ امریکہ اپنے نقصانات کی وجہ سے عراق چھوڑ کر چلا جائے گا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ گیارہ ستمبر کے بعد سے القاعدہ کی جانب سے حملوں کی دس کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے جن میں تین امریکی سرزمین پر واقع ٹھکانوں کے خلاف پلان کیے گئے تھے۔

صدر بش نے مصر، اردن اور پاکستان کی شناخت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں یہ شدت پسند سمجھتے ہیں کہ وہ ریڈیکل اسلامی سامراج کے اپنے لائحۂ عمل کے تحت اقتدار پر قبضہ کرلینے کی قوت رکھتے ہیں۔ وہ واشنگٹن میں واقع ادارے نیشنل اینڈاؤمنٹ فار ڈیموکریسی سے خطاب کررہے تھے۔

صدر بش نے امریکیوں سے اپیل کی کہ وہ عراق میں جاری تشدد کے سامنے صبرآزما رہیں۔ انہوں نے کہا: ’جنگیں بغیر قربانی کے نہیں جیتی جاتیں اور اس جنگ میں زیادہ قربانی، زیادہ وقت اور زیادہ عزم کی ضرورت ہوگی۔‘ امریکہ میں رائے عامہ کے جائزوں سے لگتا کہ صدر بش کی عراق پالیسی کی عوامی حمایت کم ہورہی ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے شام اور ایران پر عراقی سورش کو امداد پہنچانے کا الزام لگایا اور کہا کہ واشنگٹن ان لوگوں کے درمیان فرق نہیں سمجھتا جو دہشت گرد حملے کرتے ہیں اور جو ان کی حمایت کرتے ہیں یا حملہ آوروں کو پناہ دیتے ہیں۔

تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ عراق میں پیش رفت ہورہی ہے اور کہا کہ عراقی آئین پر ابھرنے والے تنازعات ’جمہوریت کی اساس‘ ہیں۔ امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ عراق القاعدہ کے شدت پسندوں کے ہاتھ میں کھسک ہے اور اسی وجہ سے امریکہ کو وہاں رہنے کی ضرورت ہے۔

جارج بش نے کہا: ’جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم (عراق میں) اپنے نقصانات کم کرسکتے ہیں اور اب چھوڑ کر چلے جائیں گے وہ ایک خطرناک خام خیالی میں ہیں۔ کیا امریکہ کم یا زیادہ محفوظ ہوگا اگر الزرقاوی اور بن لادن عراق اور اس کے عوام پر کنٹرول کررہے ہوں گے؟‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’تہذیب یافتہ دنیا کی جانب سے قدم کھینچنے کو یہ دشمن مزید تشدد کی دعوت سمجھتا ہے۔ عراق میں بغیر فتح کے کوئی امن نہیں ہوگا۔ ہم اپنا عزم برقرار رکھیں گے اور ہم یہ فتح حاصل کریں گے۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر بش کے اس اہم خطاب کا مقصد ان کی انتظامیہ کی عراق پالیسی کی کم ہوتی ہوئی عوامی حمایت کو روکنا ہے۔ سی این این / یو ایس اے ٹو ڈے / گیلپ پول کے مطابق انسٹھ فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ عراق پر حملہ ایک غلطی تھی اور ترسٹھ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کچھ یا کل فوجی عراق سے واپس بلالے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد