عراق تشدد: اعداد و شمار کے آئینے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں خونریزی عراق میں جاری خونریزی کے مصدقہ اعداد و شمار جمع کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ تاہم مختلف ذرائع سے ملنےوالی تعداد کی بنیاد پر ایک ایسے علاقے کی تصویر کشی ہوتی ہے جہاں مزاحمت کاروں کے حملے اور فرقہ وارانہ ہلاکتیں معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتیں عراق پر امریکی حملے کے ابتدائی دنوں میں ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ شہری ہلاکتوں کی تعداد متنازعہ ہے اور امریکی اور برطانوی فوج کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
مزاحمتی حملے 2003 کے بعد سے عراق کے کچھ علاقوں میں مزاحمت کاروں کے حملے بڑھ گئےہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سے عراق میں بدترین تشدد دیکھنے میں آیا ہے۔ 2005 میں اتحادی فوج پر کئے گئے حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والے اسی فیصد عام شہری تھے۔ فروری 2006 میں سمارا میں شیعہ مزار پر حملے کے بعد سے فرقہ وارانہ تشدد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ حملوں میں اضافے کے ساتھ حملوں کے طریقوں میں بھی جدت آئی ہے۔ 2004 کی نسبت 2005 میں کار بم حملوں اور خودکش کار بم حملوں میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ جون 2006 میں 57 کار بم حملے کیئے گئے۔
مزاحمت کاروں کی تعداد مزاحمت کاروں کی تعداد کے بارے میں بھی مختلف اندازے پائےجاتے ہیں۔امریکی ذرائع کے مطابق 2004 تک یہ تعداد 5000 تھی جوکہ بعد میں بڑھ کر 12000 سے 16000 تک جاپہنچی۔ 2006 میں یہ تعداد 8000 سے لے کر 20000 تک بتائی گئی۔ عراقی انٹیلیجنس ذرائع یہ تعداد 40000 کے قریب بتاتے ہیں، جن کے 160000 حامی موجود ہیں۔ بیشتر مزاحمت کار عراقی سنی بتائے جاتے ہیں جبکہ عراق میں آنے والے بیرونی مزاحمت کار صرف 10 فیصد ہیں۔
فرقہ وارانہ تشدد 2005 کے اوائل سے تشدد کا ایک نیا اور بیہمانہ انداز سامنے آیا ہے۔ حملہ آور کئی لوگوں کو اجتماعی طور پر ہلاک کرکے ان کی لاشیں کسی دور دراز مقام یا کسی خالی بس پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان لاشوں پر تشدد کے نشانات بھی پایے جاتے ہیں۔ ایسی ہلاکتوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہیں واقعات کے بعد سمارا بم حملے کا واقعہ ہوا۔ لاشوں کی شناخت کی بنیاد پر بیشتر ہلاکتوں کو فرقہ وارانہ کہا جاسکتا ہے۔ تاہم عراق میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں اور دیگر ہلاکتوں کی تعداد میں فرق کرنا مشکل ہے۔ کل ہلاکتوں کا اندازہ ملک کے مردہ خانوں کی حالت سے ہوتا ہے تاہم نامہ نگاروں کے مطابق یہ اندازہ بھی اتنا درست نہیں کیونکہ تمام کاشیں مردہ خانوں میں نہیں لائی جاتیں۔ بے گھر عراقی عراق میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں بھی سمارا واقعہ کے بعد سے تیزی سےاضافہ ہورہا ہے۔ اگست تک 137862 افراد بے گھر ہوچکے تھے۔ یہ لوگ عارضی خیموں یا دوست رشتہ داروں کے گھروں پر قیام پذیر ہیں۔ مذہبی طور پر ملی جلی آبادی والے علاقوں سے لاکھوں لوگ دوسرے علاقوں میں منتقل ہوچکےہیں جہاں ان کے خیال میں وہ محفوظ ہیں اور جہاں ان کے اپنے فرقہ کے لوگوں کی اکثریت ہے۔ |
اسی بارے میں بغداد کے لیئے مزید امریکی فوجی07 August, 2006 | آس پاس بغداد میں چالیس ہزار فوجی تعینات14 June, 2006 | آس پاس بغداد میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک 09 July, 2006 | آس پاس بغداد میں دھماکے، 19 ہلاک08 August, 2006 | آس پاس بصرہ میں ہنگامی حالت کا نفاذ31 May, 2006 | آس پاس بصرہ میں ہنگامے، پانچ عراقی ہلاک، کئی زخمی06 May, 2006 | آس پاس بصرہ میں کرفیو: پانچ عراقی ہلاک 06 May, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||