BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 July, 2006, 09:35 GMT 14:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی مستقبل، امریکہ، عراق متفکر

دونوں رہنماؤں نے عراق کی تازہ صورت حال پر بات سے کسی حد تک گریز کیا
عراق میں امن کے قیام میں اتحادی فوج کی ناکامی کے بارے میں نہ تو امریکی صدر اور نہ ہی عراقی وزیراعظم نور الملکی نے کوئی بات کی ہے مگر ان دونوں رہنماوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کا اہم نکتہ ہی عراق کی موجودہ صورت حال تھا۔

عراقی وزیراعظم کی ایما پر بغداد میں چھ ہفتے قبل شروع کیے گئے ایک آپریشن کو، جسکی منظوری گزشتہ ماہ صدر بش نے ایک عراقی دورے کے دوران دی تھی، سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے ہیں یا اگر یہ کہا جائے کہ اس کے کچھ اچھے نتائج نہیں نکلے تو درست ہو گا۔

مزاحمت کاروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ ہوا اور ہر روز سو کے قریب شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔

امریکی اتحادی فوج کے ایک اندازے کے مطابق پچھلے ماہ کے مقابلے میں جولائی میں حملوں میں چالیس فیصد اضافہ ہوا۔

ان تمام محرکات کی روشنی میں متفکر امریکی صدر بش وائٹ ہاؤس کے مطابق عراق میں تعینات فوجی دستوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور خاص طور پر بغداد میں امریکی فوجی دستوں کی تعداد میں اضافے پر غور کر رہے ہیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں فوجی دستوں کی از سر نو تعیناتی کے مراحل اور وقت کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ صدر کے نیشنل سکیورٹی کے مشیر سٹیفن ہیڈلے نے عراق کے حوالے سے نئے سکیورٹی پلان کی بعض تفصیلات بتائی ہیں۔

گزشتہ ایک ماہ میں عراق میں فرقہ واریت میں اضافہ ہوا ہے

دونوں رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر مضطرب اور افسردہ دکھائی دے رہے تھے۔ اس کانفرنس کا زیادہ وقت عراق کے حوالے سے امریکی صدر کے خیالات پر روشنی ڈالتے ہی گزرا۔ عراق کے پہلے منتخب وزیراعظم نورالمالکی سے امریکہ کو آخری امید ہے کہ منتخب حکومت کے قیام سے اس علاقے میں امن قائم ہو جائے گا۔

اس پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے عراق میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس صورت حال میں عراقی وزیراعظم نے ان سے امریکی فوجی دستوں کے خطے میں موجود رہنے کی درخواست کی ہے۔

لبنان کے مسئلے پر دونوں رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے چھبتے سوالوں کے جوابات سے گریز کیا۔ ان سوالوں میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ حزب اللہ کے بارے میں عراق کا نظریہ کیا ہے؟۔

اسی بارے میں
عراق کی دلدل بحال
28 June, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد