BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 July, 2006, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغوی عراقی نائب وزیر آزاد ہو گئے
اغوا کے واقعات کے بعد عراقی حکام بغداد میں سیکورٹی انتظامات پر نظر ثانی کا سوچ رہے ہیں۔
گزشتہ روز اپنے محافظوں سمیت اغوا کیے جانے والے بجلی کے نائب وزیر رعد الحارث اور ان کے محافظ اغوا کرنے والوں کی قید سے رہا ہو گئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق نائب وزیر کے محافظوں نے پہلے خود کو اغوا کندگان سے آزاد کیا اور اس کے بعد وہ نائب وزیر کو بھی آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئے۔

منگل کے روز کی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ نائب وزیر کو ان کے انیس محافظوں سمیت اغوا کر لیا گیا تھا لیکن وزارت داخلہ کے ترجمان نے بدھ کو رائیٹرز کو بتایا کہ اغوا کیے جانے والے محافظوں کی تعداد سات تھی اور نائب وزیر سمیت یہ محافظ اغوا ہونے کے بارہ گھنٹے کے اندر ہی آزاد ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

فوجی لباس میں ملبوس افراد نے رعد الحارث کی گاڑی کا راستہ سات کاروں کی مدد سے روکنے کے بعد انہیں اپنی گاڑی سے اترنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب نائب وزیر مشرقی بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے تلبیہ سے گزر رہے تھے۔

نائب وزیر نے اپنے اغوا کے واقعہ پر کوئی بیان دینے سے معذوری کا اظہار کیا ہے جب کے ان کے عملے نے بھی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ رعد الحارث کو کن لوگوں نے اغوا کیا تھا۔

گزشتہ چار دنوں میں عراق میں کسی اہم شخصیت کے اغوا کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ ہفتے کے روز ایک سنی خاتون رکن اسمبلی کو سات محافظوں سمیت اغوا کر لیا گیا تھا اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر کے اغوا کے ایک عینی شاہد نے بتایا تھا کہ’ ہم اس وقت سڑک پر کھڑے تھے جب کچھ غیر سرکاری گاڑیوں نے وزیر کے قافلے کو روکا۔ کچھ مسلح افراد ان گاڑیوں سے نکلے اور وزیر اور ان کے محافظوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔‘

بغداد میں سیکورٹی فورسز نے اس واقعہ کی زیادہ تفصیل نہیں بتائی تھی تاہم ایک اطلاع میں یہ کہا گیا تھا کہ نائب وزیر کے محافظوں نےمزاحمت اس وجہ سے نہیں کی کیونکہ انہیں لگا یہ ایک سرکاری آپریشن ہے۔

اس سے قبل ہفتے کے روزایک سنی رکن اسمبلی کو شہر کے شمالی علاقے صدر سٹی کے قریب سے ان کے سات محافظوں سمیت اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس اغوا پر احتجاج کے طور پر ان کے دھڑے نے ملک کی پارلیمان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد