BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 June, 2006, 07:36 GMT 12:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں چالیس ہزار فوجی تعینات
بغداد سیکورٹی
نئے سیکورٹی انتظامات عراق میں امریکی فوج کی آمد سے اب تک کے سخت ترین اقدامات ہیں۔
بغداد میں سکیورٹی کی صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نئے منصوبے کے تحت تقریباً چالیس ہزار عراقی اور امریکی سکیورٹی اہلکاروں کو شہر کی گلیوں اور سڑکوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

شہر میں رات کے کرفیو میں سختی کرنے کے علاوہ جمعہ کی نماز کے اوقات میں سڑکوں پر گاڑیوں میں سفر پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ اقدامات صدر بش کی بغداد آمد کے ایک دن بعد اٹھائے گئے ہیں۔

حکومت کو خدشہ ہے کہ ابو مصعب الزرقاوی کی موت کے بعد عراق میں القاعدہ نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔

اب بغداد میں رات کا کرفیو رات گیارہ بجے کی بجائے ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوا کرے گا۔ بدھ کی صبح بغداد بھر میں سیکورٹی کے اضافی اہلکاروں نے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور شہر کے مختلف حصوں میں نئی چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔

شہر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ واضح فرق دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اب زیادہ گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جا رہی ہے جس وجہ سے چیک پوسٹوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔

ابھی تک سیکورٹی کی نئی ذمہ داریاں زیادہ تر عراقیوں نے سنبھالی ہیں اور ان مقامات پر امریکی فوجی کم دکھائی دے رہے ہیں۔

سیکورٹی کے نئے انتظامات کے باوجود بدھ کے روز بھی بغداد میں تشدد کی کارروائیں جاری رہیں۔ شہر کے ایک سنی اکثریتی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں آئی۔

بغداد کے شمالی علاقے میں ایک کار بم دھماکہ ہوا جس میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ دس زخمی ہوگئے۔ شمالی بغداد میں ایک اور کار بم بھی پھٹا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

عراق میں یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ اپنے رہنما ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے لوگ ملک میں نئے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق زرقاوی کے جانشین ابو حمزہ المجاہد نے مبینہ طور پر عراق میں ’صلیبیوں اور شیعوں‘ کو شکست دینے کا عہد کیا ہے۔

عراقی وزیر اعظم نے ایک بار پھر کہا کہ وہ شدت پسندوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ ان کے ہاتھ عراقیوں کے خون سے نہ رنگے ہوں۔

بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کے مطابق امریکی چاہتے ہیں کہ ملک میں سیکورٹی کی پوری ذمہ دار جلد از جلد عراقیوں کے حوالے کر دی جائے۔ سرکاری افسران بھی اس سلسلے میں پر امید لگتے ہیں۔ وزارت داخلہ کی سیکورٹی فورس کے سربراہ جنرل مہدی الغراوی کہتے ہیں کہ ’دہشتگرد اس نئی طاقت کا سامنا نہیں کر سکتے۔‘

نامہ نگار کے مطابق وزیراعظم نوری المالکی یہ بات ثابت کرنے میں سنجیدہ ہیں کہ بغداد میں سیکورٹی کے معاملات پران کی مکمل گرفت ہے تاہم یہ بات بھی سچ ہے کہ منگل کے روز صدر بش کے بغداد پہنچنے کی خبر وزیراعظم کو صرف پانچ منٹ پہلے دی گئی تھی۔ پروگرام کے مطابق صدر بش نے نوری المالکی سے ویڈیو لنک کے ذریعے واشنگٹن سے بات چیت کرنا تھی۔

عراقی وزیر اعظم نے ایک بار پھر اپنی یہ بات دھرائی ہے کہ وہ شدت پسندوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ ان کے ہاتھ عراقیوں کے خون سے نہ رنگے ہوں۔

اسی بارے میں
بش اچانک عراق پہنچ گئے
13 June, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد