بغداد: چھ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال عراق کے دار الحکومت بغداد کے مردہ خانے میں چھ ہزار سے زیادہ لاشیں لائی گئیں ہیں اور ان میں سے بیشتر کی موت پُر تشدد واقعات کے نتیجے میں ہوئی۔ اس بات کا پتہ عراق کے وزارت صحت کے نئے عداد و شمار سے ہوتا ہے۔ ان عداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں میں ہر مہینے اصافہ ہوتا گیا ہے اور صرف مئی کے مہینے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چودہ سو تک پہنچ گئی۔ خیال ہے کہ یہ ہلاکتیں زیادہ تر فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔ یوں سرکاری اندازوں کے مطابق پانچ مہینوں میں چھ ہزار سے زیادہ افراد تشدد میں ہلاک ہوئے ہیں تاہم مبصروین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ادھر پولیس نے بتایا ہے کہ بغداد کے شمال میں انہیں 9 لوگوں کے قلم کیے ہوئے سر ملے ہیں۔ فرقہ وارانہ خون ریزی پر قابو پانے کی کوشش میں عراقی وزیر اعظم نور الملکی نے پچیس ہزار قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’قومی مصالحت‘ کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق رہا ہونے والوں میں زیادہ تر سنی افراد شامل ہیں۔ | اسی بارے میں عراق: مزید انسانی سر برآمد06 June, 2006 | آس پاس ہلاکتیں، نامعلوم لاشیں، کٹےہوئےسر03 June, 2006 | آس پاس بغداد: کم از کم پچاس افراد اغوا05 June, 2006 | آس پاس چیک پوسٹوں پر حملے، 20 ہلاک 04 June, 2006 | آس پاس بغداد میں’روسی سفارتکار ہلاک‘03 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||