BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 09:53 GMT 14:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد: کم از کم پچاس افراد اغوا
 بغداد
اغوا کا واقعہ بغداد کے مرکزی علاقے میں پیش آیا
عراق میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے مرکزی بغداد کے علاقے سے کم از کم پچاس افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

ممکنہ طور پر دو شامی شہری بھی مغویوں میں شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صالحیہ سٹریٹ پر پیش آیا۔ یہ علاقہ ٹریول ایجنسیوں اور ٹور آپریٹرز کے دفاتر کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور مغویوں میں بھی زیادہ تر ان ایجنسیوں کا عملہ اور صارفین شامل ہیں۔

ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ’وہ ایجنسیوں کے عملے اور راہگیروں کو پکڑ کر لےگئے اور اس کی وجہ بھی نہیں بتائی۔ پولیس بعد میں پہنچی اور اس نے کچھ نہیں کیا‘۔

پولیس حکام کے مطابق مسلح افراد تیرہ عدد کاروں میں سوار تھے اور انہوں نے پولیس اور کمانڈوز کی وردیاں پہن رکھیں تھیں۔ اس قسم کے اغوا کا واقعہ عام نہیں تاہم ابھی تک کسی گروہ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ادھر امریکی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ جمعہ کو توپخانے کی ایک مشق کے دوران ہونے والے ایک دھماکے میں تین عراقی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بعقوبہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر حبحب میں واقع امریکی اڈے سے چلایا جانے والا توپ کا ایک گولہ قصبے کی ایک عمارت پر جا گرا جس سے دو عراقی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک نے بعد میں دم توڑ دیا۔

گولہ امریکی فوجیوں کی ایک مشق کے دوران چلایا گیا تھا

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گولہ 155 ملی میٹر توپ کا تھا اور اس کے چلائے جانے کچھ دیر بعد عراقی پولیس نے ایک دھماکے کی اطلاع دی جس میں دو عراقی ہلاک اور چار زخمی ہوئے اور چھ مکانات تباہ ہوگئے۔

بیان کے مطابق امریکی فوجی جائے حادثہ پر ابتدائی طبی امداد دینے کے لیئے پہنچے اور زخمیوں کو فوجی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ایک زخمی عورت بھی چل بسی۔

یاد رہے کہ یہ اعتراف اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فوجیوں کی جانب سے عراقی عوام پر تشدد اور ان کے قتل کے واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اورگزشتہ ہفتے عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے بھی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراقیوں کے اتفاقاً قتل کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد