قتلِ عام کی ویڈیو، تحقیقات کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں اپنے فوجیوں کی جانب سےگیارہ عراقیوں کو ممکنہ طور پر جان بوجھ کر ہلاک کرنے کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ عراق میں ایک امریکی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ بی بی سی کو عراق میں امریکی فوج کی طرف سے گیارہ معصوم شہریوں کو دانستہ طور پر ہلاک کرنے کی نئی ویڈیو ملی ہے جس سےگزشتہ مارچ میں عراق کے شہراسحاقي میں ہونے والے واقعات کے بارے میں امریکی فوج کے بیانات کی تردید ہوتی ہے۔ امریکی فوج نے واقعہ کے بعد بیان دیاتھا کہ فوجی کارروائی میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ عراقی پولیس نے دعوٰی کیا تھا کہ اس کارروائی میں گیارہ افراد کو دانستہ طور پر گولیاں ماری گئیں۔ امریکی حکام نے کہا تھا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ایک گھر میں القاعدہ کا ایک حامی چھپا ہوا ہے جس کے بعد کارروائی کے دوران مسلح جھڑپ شروع ہو گئی تھی۔ امریکی فوج کے مطابق شدید فائرنگ کے باعث گھر کی عمارت گر گئی جس میں چار افراد ایک مشبتہ شخص ، دو عورتیں اور ایک بچہ ہلاک ہوگئے تھے۔ لیکن عراقی پولیس کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے گیارہ افراد جن میں پانچ بچے اور چار خواتیں بھی شامل تھیں گرفتار کر کے گولی مار دی اور اس کے بعد گھر کو اڑا دیا۔ بی بی سی کے عالمی امور کے ایڈیٹر جان سمسن کو ملنے والی ویڈیو میں ان گیارہ افراد کی لاشوں پر گولیاں کے واضح نشانات تھے۔ یہ تصاویر ایک سخت گیر سنی گروہ نے مہیا کی ہیں۔ ان تصاویر کی دیگر ذرائع سے بھی تصدیق کی گئی ہے اور یہ اصل ثابت ہوئی ہیں۔ یہ ثبوت ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی فوج پرگزشتہ سال نومبر میں حدیثہ کے علاقے میں چوبیس شہریوں کو ہلاک کرنے کاالزام لگایا جارہا ہے۔ | اسی بارے میں حدیثہ کی آنکھوں دیکھی تفصیل 31 May, 2006 | آس پاس تفصیلات سامنے لائیں گے: امریکہ 31 May, 2006 | آس پاس حدیثہ: قتل عام کی تحقیقات ہوگی30 May, 2006 | آس پاس عراق میں چالیس لاشیں برآمد31 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||