حدیثہ: قتل عام کی تحقیقات ہوگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیر اعظم نور المالکی نے کہا کہ گزشتہ سال حدیثہ کے قصبے میں مبینہ طور پر امریکی فوج کی طرف سے عام شہریوں کے قتل عام کے واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ نور المالکی نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ غلطی سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں معذرتیں قبول کرنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قوم کو اس کی پوری تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا کہ صدر کو ان الزامات پر سخت تفتیش ہے لیکن وہ فوج کی تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگن کی اس واقعہ کی تحقیقات اپنے آخری مراحل میں ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس واقعہ سے امریکی ساکھ کو ابوغریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی کی خبروں سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حدیثہ کے واقعہ کے بارے میں پہلے امریکی فوج نے کہا تھا کہ ایک بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد پندرہ شہری اور آٹھ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔
نورالمالکی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عام شہری ایک غلط فوجی کارروائی کا نشانہ بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ہے تو اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ عام شہریوں کو ہلاک کر دیا جائے۔ انہوں نے رائٹرز کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ اس طرح کی بڑھتی ہوئی غلطیوں پر ان کی حکومت کو سخت تشویش ہے اور وہ حدیثہ کے علاوہ ہر اس کارروائی کے بارے میں جواب طلب کرے گی جس میں عام شہری ہلاک ہوں گے۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب نے اطلاع دی ہے کہ حدیثہ کے واقعہ کے بارے میں شائع ہونے والی خبریں عام امریکیوں کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہیں کہ ان الزامات میں ضرور کوئی سچائی ہے۔ امریکی تفتیش کار اس واقعہ کی دونوں ممکنہ زاویوں سے تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ اصل واقعہ کے بارے میں تحقیقات کرنے کے علاوہ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ اس واقعہ کو چھپانے کی کس طرح کوشیش کی گئی۔ امریکی فوج کے مطابق عام شہری بم دھماکے یا اس کے بعد شروع ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہوئے جبکہ عینی شاہدوں کے مطابق امریکی فوج نے دھماکے کے بعد اشتعال میں آ کر عام شہریوں کو ہلاک کر ڈالا۔
امریکہ کے ایک مقتدر جریدے ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ امریکی مرینز نے بغیر کسی اشتعال کے عام شہریوںہلاک کر ڈالا تھا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ اخبار تحقیقات میں شامل فوجی اور غیر فوجی ذرائع کے حوالے سے لکھتا ہے کہ کئی امریکی فوجیوں کو عام شہریوں کو ہلاک کرنے اور کچھ کو اس واقعہ کو چھپانے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حدیثہ میں اس وقت تعینات ایک امریکی فوجی لانس کورپرل رول رئیان برائنز کے مطابق انہوں نے ان ہلاکتوں کی تصاویر اتاریں تھیں اور اس واقعہ کو چھپانے کی کوشش میں لاشوں کو گھسیٹ کر گھروں سے باہر نکالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان میں چھوٹے بچوں سمیت مرد اور خواتین بھی شامل تھیں ’میں یہ کبھی اپنے ذہن سے نہیں نکال سکتا اور اب بھی ان لاشوں کی بو میرے دماغ میں بسی ہوئی ہے۔‘ | اسی بارے میں عراق: اتوار کو کیا کیا ہوا؟08 November, 2004 | آس پاس دجلہ اور حدیثہ سے 69 لاشیں برآمد 20 April, 2005 | آس پاس جھڑپ:2 امریکی فوجی ہلاک29 July, 2005 | آس پاس ’امریکی فوج عراق میں رہے گی‘04 August, 2005 | آس پاس دو واقعات میں گیارہ افراد ہلاک 10 August, 2005 | آس پاس عراقی شہریوں کی ہلاکت، تفتیش21 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||