حدیثہ کی آنکھوں دیکھی تفصیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ فریاد کر رہا تھا: ’میں دوست ہوں، میں اچھا ہوں‘ لیکن انہوں نے اسے بیٹی اور اہلیہ سمیت ہلاک کر دیا‘۔ عراق کے مغربی شہر حدیثہ میں جان بوجھ کر چوبیس شہریوں کو ہلاک کیے جانے مبینہ واقعے کے بارے میں عینی شاہدوں نے مزید تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنے گھر سے دیکھا اور سنا کہ فوجی گھروں میں داخل ہو کر تین خاندان کے لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ میرے ہمسائے یونس سلیم خفیف کی آواز گلی میں گونج رہی تھی، وہ انگریزی میں فریاد کر رہا تھا ’میں دوست ہوں، میں اچھا ہوں‘ لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسے، اس کی بیٹی اور اہلیہ کو ہلاک کر دیا‘۔ یونس خاندان کی بچ جانے والی ایک بچی صفا یونس کا کہنا ہے کہ: ’جیسے ہی میرے والد نے دروازہ کھولا، انہوں گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ اس کے بعد انہوں نے باتھ روم میں ایک دستی بم پھینکا ۔ ۔ ۔ امریکی گولیاں چلاتے جا رہے تھے‘۔ فہمی نے مزید بتایا کہ’جب فوجی اینٹوں سے بنے ہوئے احاطے والے گھر سے باہر نکل رہے تھے تو ان کے پیچھے گھر سے شعلے بلند ہو رہے تھے‘۔ فہمی کا کہنا ہے ’ایک فوجی میرے ساتھ والے گھر کی چھت پر تھا۔ اس نے وہیں سے چلا کر فوجیوں کو پچاس گز کے فاصلے پر واقع ایک اور قریبی گھر کی طرف اشارہ کیا۔ یہ گھر 76 سالہ عبدالحمید حسن علی کا تھا۔ جو ذیابطیس کے باعث کئی سال سے معذور اور وہیل چیئر پر تھے۔ علی کے ساتھ اس گھر میں، ان کی 66 سالہ اہلیہ خمیسہ علی، تین ادھیڑ عمر کے مرد، ایک بہو اور چار بچے جن میں چار سالہ عبداللہ، آٹھ سالہ امان، پانچ سالہ عبدالرحمٰن اور دو ماہ کی بچی آسیہ رہتے تھے۔ فوجیوں نے ان سب پر بہت قریب سے گولیں چلائیں‘۔
اس خاندان کی بہو حبیبہ اپنی بچی آسیہ کے ساتھ خود کو بچانے میں کامیاب ہو سکیں۔ ہمسائیوں کا کہنا ہے کہ’امان اور عبدالرحمٰن کو بھی گولیاں لگیں لیکن ان کی زندگیاں بچ گئیں تاہم علی اور ان کے خاندان کے باقی لوگ ہلاک ہو گئے‘۔ علی خفیف کے خاندان کے لوگوں کی ہلاکتوں کے بارے میں ہسپتال سے جاری کیے جانے والے سرٹیفکیٹ میں کہا گیا ہے کہ جب علی خفیف کے گھر پر فائرنگ کی گئی اس وقت گھر میں 43 سالہ خفیف، سالہ 41 عدن یٰسین، ان کا آٹھ سالہ بیٹا اور پانچ سالہ اور ایک سالہ بیٹی موجود تھیں۔ ان میں سے تیرہ سالہ صفا اپنی والدہ کی ہلاکت کی وجہ سے بچ گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے جسم سے بہنے والے خون میں نہا گئی تھیں اور جس صدمے کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گریں تو تو انہیں بھی ہلاک سمجھ لیا گیا۔ عینی شاہدوں کے مطابق اس کے فوجیوں نے تیسرے گھر کو نشانہ بنایا۔ اس گھر میں چار بھائی رہتے تھے اور چاروں ہی مارے گئے۔ فہمی کا کہنا ہے کہ اس خون خرابے کا نشانہ بننے والے چار نوجوان خالد الزوائی، واجد الزوائی، محمد بطال محمد اور اکرم حامد فلیح بد قسمتی سے زد میں آگئے۔ وہ یونیوسرٹی کے طالبِ علم تھے اور ایک دوست کے ساتھ چھٹی منانے کے لیے آئے تھے۔ اس وقعے کے بعد فوجیوں نے ہلاک ہونے والے پندرہ افراد کے پسماندگان کو فی کس پندرہ سے پچیس سو ڈالر بطور معاوضے دینے کی کوشش کی۔ جب کہ دیگر نو افراد کے بارے میں اصرار کیا کہ وہ شورشی تھے۔
ان چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ حدیثہ میں ہلاک ہونے والوں کے خاندان ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ شروع ہونے کے انتظار میں ہیں۔ عراقی عدالتوں اور اقوام متحدہ میں مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کرنے والے ایک وکیل ولید محمد کا کہنا ہے کہ ’وہ اس انتظار میں ہیں کہ سزائیں کب دی جاتی ہیں۔ اگرچہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ملزمان کو جو سزائیں دی جائیں گی وہ زیادہ سے زیادہ اتنی ہوں گی جو امریکہ میں کتوں کو مارے جانے پر دی جا سکتی ہیں۔ کیونکہ امریکیوں کی آنکھوں میں عراقیوں کی حیثیت کتوں جیسی ہو گئی ہے‘۔ | اسی بارے میں عراق: اتوار کو کیا کیا ہوا؟08 November, 2004 | آس پاس دجلہ اور حدیثہ سے 69 لاشیں برآمد 20 April, 2005 | آس پاس جھڑپ:2 امریکی فوجی ہلاک29 July, 2005 | آس پاس ’امریکی فوج عراق میں رہے گی‘04 August, 2005 | آس پاس دو واقعات میں گیارہ افراد ہلاک 10 August, 2005 | آس پاس عراقی شہریوں کی ہلاکت، تفتیش21 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||