بغداد: بازار دھماکہ، درجنوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کے مطابق بغداد کے ایک بازار میں کار بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم باسٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ شیعہ آبادی کا یہ علاقہ پہلے بھی شدت پسندوں کی زد میں رہا ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق ایک علیحدہ واقعے میں ایک خاتون سنی رکن پارلیمنٹ اپنے سات محفظوں سمیت اغوا کر لی گئی ہیں۔ بغداد کے بازار میں ہونے والا دھماکہ کئی ہفتوں میں سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے۔ عراق کی نئی حکومت امن و امان میں بہتری لانے کی کوشش میں ہے جبکہ دوسری جانب دھماکے اور اغوا کے واقعات جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کار میں نصب بم اس وقت پھٹا جب پولیس کی گشتی گاڑی اس کے قریب سے گزر رہی تھی جس کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار اور سویلین باشندے ہلاک ہو گئے۔ شدت پسندوں نے کئی موقعوں پر بازاروں اور رش والی جگہوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پیر کے روز شیعہ آبادی والے دو شہروں ’باقوبہ‘ اور ’ہلا‘ کے بازاروں میں ہونے والے دھماکوں میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بغداد میں سترہ جون کو آنے والی دھماکوں کی لہر میں بھی دو بازار نشانہ بنے جس کے نتیجے میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ کی گمشدہ ممبر کا نام تیثیر نجح المشہدنی بتایا گیا ہے جن کا تعلق عراقی ’اکارڈیس فرنٹ‘ سے ہے جو پارلیمان میں سنی آبادی کا سب سے بڑا گروپ ہے۔ |
اسی بارے میں ’امریکی رپورٹ کی کاپی نہیں ملی‘29 June, 2006 | آس پاس ’عراق: چار روسی سفارتکار ہلاک‘25 June, 2006 | آس پاس عراقی یکجہتی کا نیا منصوبہ 25 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||