عراقی یکجہتی کا نیا منصوبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے اتوار کے روز ملک سے فرقہ واریت اور تشدد کو ختم کرنے کی غرض سے قومی یکجہتی کا چوبیس نکات پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ منصوبے میں کچھ سنی باغی گروپوں کو مذاکرات کی پیشکش اور سابق صدر صدام حسین کی بعث پارٹی کے ارکان کی حیثیت پر نظر ثانی کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ مسلح افواج کا بھی از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور امکان ہے کہ افواج کو حکومت کے تابع کیا جائے گا۔ خدشات ہیں کہ کچھ سنی مزاحمتی گروپ وزیر اعظم کے اس منصوبے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ کئی ماہ کی لے دے کے بعد مئی میں اپنا عہدہ سنبھالنے والے نوری المالکی، جو کہ خود شیعہ ہیں، ابھی تک متشدد ترین گروہوں سے بات چیت کرنے یا انہیں کسی قسم کی رعایت دینے کے مخالف رہے ہیں۔ اسی لیے نئے منصوبے میں القاعدہ، صدام حسین کے حماتیوں اور عراق شہریوں کو نشانہ بنانے والے مزاحمتی گروہوں کے لیے کوئی رعایت شامل نہیں ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اپنے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے نوری المالکی کو زیادہ سے زیادہ گروہوں سے بات چیت کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک سنی رکن اسمبلی سلیم عبداللہ نے کہا کہ ’ یہ منصوبہ تمام قومی طاقتوں کو شامل کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔‘ مـجوزہ منصوبے کے دیگر مقاصد میں عراق کی اپنی مسلح افواج اور سکیورٹی کے اداروں کی تشکیل کے نظام الاوقات کا تعین کرنا بھی شامل ہے۔ منصوبے کے اس پہلو پر کاربند رہ کر وزیراعظم مالکی عراق سے اتحادی فوجوں کی جزوی یا مکمل واپسی پر زور دینے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ واضح رہے کہ جب گزشتہ ماہ انہوں نے عہدہ سنبھالا تھا تو وزیراعظم مالکی نے ملک کی سکیورٹی کے معاملات اٹھارہ ماہ میں اتحادی فوج سے واپس لینے کا وعدہ کیا تھا۔ ادھر امریکہ سے موصول ہونے والی اطلاعات سے لگتا ہے کہ فوجی حکام اگلے ایک سال میں عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد نصف کر دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاہم ابھی تک اس سلسے میں کوئی آخری فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
نوری المالکی کے اتحادی ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا قومی یکجہتی کا منصوبہ عراق میں حالات کی بہتری کا ایک حقیقی موقع فراہم کرتا ہے۔ عراقی صدر جلال طالبانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جو مزاحمتی گروہ ابھی تک حکومت کے ساتھ بات چیت میں سے باہر ہیں، انہیں مذاکرات میں شامل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ ہتھیار پھینک دیں اور خود کو پرتشدد کارروائیوں سے دور کریں۔ نوری المالکی کے نئے امن منصوبے کی اہم تجاویز میں بظاہر بعث پارٹی کے ان ارکان کے لیے رعایات شامل ہیں جنہیں عراق پر حملے کے بعد سے سرکاری عہدوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔ بعث پارٹی کے اراکین اور صدام حسین کی فوج میں شامل افراد کے بارے میں مسلسل یہ خیال پایا جاتا رہا ہے کہ وہ اتحای فوج کے خلاف کارروائیوں میں مصروف گروہوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں جاری پرتشدد کارووائیوں میں مصروف گروہوں سے اسلحلہ واپس لینا نوری المالکی کے منصوبے کا دوسرا اہم حصہ ہے۔ | اسی بارے میں عراق سے انخلاء، قرارداد مسترد22 June, 2006 | آس پاس عراق تشدد: 41 ہلاک، سو زخمی17 June, 2006 | آس پاس عراق: ہزاروں جانیں ضائع 16 June, 2006 | آس پاس ’عراق میں القاعدہ خاتمے کی جانب‘15 June, 2006 | آس پاس عراق میں القاعدہ کا نیا سربراہ مقرر13 June, 2006 | آس پاس ’کچھ حصے پر عراقی فوج کا کنٹرول‘23 May, 2006 | آس پاس عراقی حکومت کی حمایت کی اپیل26 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||