عراقی حکومت کی حمایت کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر جارج بش نے بین الاقوامی برادری سے عراق کی نئی حکومت کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ عراق کے نئے رہنماؤں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’ہم ان کی حمایت کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں تاکہ تباہکاری کے فورسز کو شکست دی جاسکے۔‘ جارج بش اور ٹونی بلیئر واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ امریکی صدر نے عراق پر حملے کا دفاع کیا لیکن ساتھ ہی اس بات کا اعتراف کیا کہ کئی غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں جارج بش نے بغداد کی ابوغریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی نشاندہی کی۔ دونوں رہنما جمعہ کو مزید بات چیت کرنے والے ہیں۔ اس ملاقات سے قبل ٹونی بلیئر جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں ایک تقریر کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کی مقبولیت میں کافی کمی آئی ہے اور نامہ نگاروں کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ ان کے دور کا اختتام ایسے ہو کہ مستقبل میں انہیں یاد رکھا جائے۔ برطانوی وزیراعظم حال ہی میں عراق کے دورے سے لوٹے ہیں۔ پیر کے روز انہوں نے بغداد میں نئے عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے ملاقات کی۔
ٹونی بلیئر نے کہا کہ عراق پر حملوں کے بارے میں لوگوں کے جو بھی اختلافات رہے ہوں، ’ہماری ذمہ داری، بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ اس حکومت کی حمایت کریں۔‘ جارج بش نے کہا کہ اب عراقیوں کو ایک جمہوری حکومت دستیاب ہے اور اب ضرورت ہے کہ وہ فرقہ وارانہ اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک متحد قوم کی حیثیت سے کام کریں۔ تاہم پریس کانفرنس کے دوران جارج بش اور ٹونی بلیئر دونوں نے ہی عراق سے افواج کی واپسی کے بارے میں کسی تاریخ کے تعین سے انکار کردیا۔ جارج بش نے کہا کہ اتنی فوج وہاں موجود رہے گی جتنا ’جیتنے کے لیے ضروری ہوگی۔‘ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ جب تک عراق میں حالات مناسب نہ ہوئے افواج واپس نہیں ہوں گی۔ تاہم ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ عراق کی اپنی افواج ملک کے بیشتر حصوں پر کنٹرول حاصل کریں گی۔
خیال کیا جارہا ہے کہ جمعہ کو جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں اپنی تقریر کے دوران برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر جمہوریت کے اقدار اور دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کیے جانے والے اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر کچھ کہیں گے۔ ٹونی بلیئر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ، اس کی سلامتی کونسل اور مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف جیسے اداروں میں شفاف عمل کے لیے اصلاحات کی اپیل کریں گے۔ ٹونی بلیئر پہلے اعلان کرچکے ہیں کہ وزارت عظمی کی اپنی تیسری مدت کے بعد وہ مستعفی ہوجائیں گے جو کہ سن 2010 سے قبل نہیں ہوگا۔ ان پر جلد از جلد استعفیٰ دینے کے لیے ان کی جماعت لیبر پارٹی کے دھڑوں کی جانب سے دباؤ ہے۔ جارج بش کا دورِ اقتدار 2009 میں ختم ہوگا۔ ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ صدر بش وزیراعظم ٹونی بلیئر کے بعد ان کی جگہ کسے دیکھنا پسند کریں گے، بش نے ان کی حمایت میں کہا: ’جب تک میں صدر ہوں، میں چاہتا ہوں کہ وہ یہاں (وزیراعظم کے عہدے پر) رہیں۔‘ |
اسی بارے میں اپریل میں ہزار سے زائد عراقی ہلاک10 May, 2006 | آس پاس نئی عراقی حکومت کی منظوری20 May, 2006 | آس پاس نئی عراقی حکومت کی عالمی حمایت21 May, 2006 | آس پاس دہشت گردی سے نپٹنے کا عہد21 May, 2006 | آس پاس ’کچھ حصے پر عراقی فوج کا کنٹرول‘23 May, 2006 | آس پاس مسجد کے باہر دھماکہ، گیارہ ہلاک23 May, 2006 | آس پاس ایرانی، ترک افواج عراقی سرحد پر جمع06 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||