نئی عراقی حکومت کی عالمی حمایت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش اور ٹونی بلیئر سمیت کئی رہنماؤں نے وزیراعظم نوری مالکی کی حکومت کی حمایت کی ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ نئی عراقی حکومت کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن ساتھ ہی نئی حکومت کے پاس ترقی کے کئی مواقع ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ عراق میں حکومت سازی کا عمل انتہائی کٹھن اور حوصلہ افزا تھا۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وسیع البنیاد نمائندہ قومی حکومت عراق میں ترقی کے نئے مواقع لے کر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی عراقی قیادت کو مشکل چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن نئی کابینہ میں شامل وزراء جانتے ہیں کہ عراق کشمکش کی اس گھڑی میں اکیلا نہیں ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق میں نئی حکومت کے قیام کو ایک بہت بڑی پیش رفت قرار دیا جبکہ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ نے اسے صحیح قدم قرار دیا۔ اردن کے شاہ عبداللہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی حکومت کے قیام سے عراقی عوام کے بہتر زندگی، جمہوریتاور قومی استحکام کی خواہش کی تکمیل ہو گی۔ تاہم اس کل جماعتی حکومت میں قومی سلامتی، داخلی امور اور دفاع کی وزارتوں کے لیئے امیدواروں کے ناموں پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نوری المالکی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ کشمکش سے کامیابی سے نبرد آزما ہوں گے۔ وزارت داخلہ ابھی وزیراعظم نوری مالکی کے پاس ہوگی جبکہ نائب وزیراعظم سلام زوبعی وزارت دفاع کے انچارج ہوں گے۔ وزیراعظم نوری مالکی شیعہ ہیں جبکہ نائب وزیراعظم سلام زوبعی سنی ہیں۔ ہوشیا زیباری عراق کے وزیر خارجہ رہیں گے۔ نئی کابینہ میں کل سینتیس اراکین ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ سن 2003 میں امریکی حملوں کے بعد یہ باقاعدہ حکومت عراق میں سیاسی انتشار پر کنٹرول حاصل کرسکتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کا کہنا ہے کہ نئی متحدہ حکومت کا آغاز اچھا نہیں رہا۔
جب وزیراعظم مالکی نے کابینہ کے وزراء کا اعلان کرنا شروع کیا تو 275 رکنی پارلیمنٹ کے اراکین نے ہر نام پر تالیاں بجائیں اور نئے وزراء نے اسٹیج پر اپنا مقام سنبھالا۔ لیکن پھر ایک سنی جماعت کے رکن نے، جن کی پارٹی حکومت میں شامل ہے، اس بات پر واک آؤٹ کیا کہ وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کی آسامیاں کیوں نہیں پُر کی گئیں۔ اس موقع پر پارلیمنٹ سے خطاب میں وزیراعظم مالکی نے کہا کہ سیاسی استحکام اور سکیورٹی ان کی حکومت کی ترجیحات ہوں گی۔ لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ داخلی اور دفاعی امور کی وزارتوں کے خالی رہنے سے ملک میں سکیورٹی کا قیام ایک چیلنج ثابت ہوگا۔ پارلیمنٹ کے افتتاح سے قبل ہی بغداد کے ایک شیعہ علاقے میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں کم سے کم انیس افراد ہلاک اور اٹھاون زخمی ہوگئے۔ ایک دوسرے واقعے میں ایک خودکش بمبار نے پانچ لوگوں کو ہلاک اور دس کو زخمی کردیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||