اپریل میں ہزار سے زائد عراقی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں گزشتہ ماہ بغداد میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ عراق میں تشدد کی لہر سے متعلق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم اپریل سے تیس اپریل کے دوران بغداد میں 1091 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ عراقی صدر کا کہنا ہے کہ ہر روز لاشیں برآمد ہونے کی خبریں ان کے لیئے ’دھچکے اور اشتعال‘ کا باعث ہیں۔ یہ بیان صدر طالبانی نے نامزد وزیر اعظم نوری مالکی کے اپنی پارلیمان کے اعلان سے پہلے جاری کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ نوری مالکی کی رہنمائی میں حکومت بڑھتے ہوئے تشدد پر زیادہ بہتر طور پر قابو پا سکے گی۔ جلال طالبانی کے دفتر سے جاری کیئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی اتحاد پر مبنی حکومت کی فوری تشکیل اس معاملے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاہم ساتھ ہی انہوں نے سکیورٹی کے شعبوں پر زور دیا کہ وہ فیصلہ کن اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا ’اگر ہم ان لاشوں کی تعداد بھی ان میں شامل کر لیں جنہیں برآمد ہی نہیں کیا جاسکا یا پھر دیگر صوبوں میں ہونے والے ایسے ہی واقعات، تو ہلاکتوں کی جو تعداد سامنے آئے گی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں یسے حالات کا سامنا ہے کو کسی طور بھی دہشتگردانہ کارروائی سے کم نہیں‘۔ بدھ کی صبح بعقوبہ میں ایک بس پر حملے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ افراد توانائی کے شعبے میں سرکاری ملازم تھے۔ ایک پولیس افسر کے مطابق حملہ آوروں نے بس پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو بس ایک دھماکے سے پھٹ گئی۔ اس سے قبل جمعرات کو تلعفر شہر میں ایک کار بم حملے میں 24 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عراق کے نامزد وزیر اعظم نوری ملیکی نے منگل کو کہا ہے کہ قومی اتحاد پر مبنی حکومت کی تشکیل آخری مراحل میں ہے اور انہیں امید ہے کہ اگلے دو روز میں یہ کام مکلم ہوجائے گا۔ ان کی کابینہ کے ارکان کی فہرست منظوری کے لیئے پارلیمان میں بھیجی جائے گی۔ امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ ’اب عراق صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے‘۔ | اسی بارے میں عراق میں تشدد: درجنوں ہلاک03 May, 2006 | آس پاس بغداد: بم دھماکوں میں چھ ہلاک23 April, 2006 | آس پاس جعفری یا کوئی اور، فیصلہ آج ہوگا 21 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||