عراق میں تشدد: درجنوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں پولیس نے بتایا ہے کہ حالیہ پُر تشدد واقعات میں کم سے کم 50 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ بدھ کو فلوجہ میں ایک اور خودکش حملہ ہوا۔ فلوجہ میں پولیس نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور ان لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا جو پولیس میں بھرتی ہونے کے لیئے انتظار کر رہے تھے اور اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک اور کم سے کم پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس والے بھی شامل تھے۔ ادھر عراق کے دارالحکومت بغداد کے شیب نامی علاقے میں 14 لاشیں ملی ہیں جن کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے اور جن کے آنکھوں پر پٹی تھی۔ ان سب کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے جسموں پر تشدد کے نشانات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد کی عمریں بیس اور تیس سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد کی شناخت ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ اس سے پہلے منگل کی رات کو ایک اور واقعے میں چار شیعہ طلباء کو ان کی گاڑی سے نکال کر مار دیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق انہیں ایک جعلی چیک پوسٹ پر روکا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس نے بتایا ہے کہ انہیں بیس کے قریب اور لاشیں ملی ہیں۔ فروری میں سامرہ میں واقع روضہ امام عسکری پر حملے کے بعد سے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی فوج کے اندازوں کے مطابق شہریوں پر حملوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ |
اسی بارے میں بغداد: مسجد پر حملہ گیارہ ہلاک03 April, 2006 | صفحۂ اول عراق خانہ جنگی کے دہانےپر23 February, 2006 | آس پاس عراق میں تشدد کی لہر، سو ہلاک23 February, 2006 | آس پاس عراقی حکومت کے ’ڈیتھ سکواڈ‘16 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||