جعفری یا کوئی اور، فیصلہ آج ہوگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کا آج بغداد میں اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں وہ اپنے لیڈر کا انتخاب کریں گے۔ شیعہ اتحاد عراقی انتخابات میں کامیابی کے بعد سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرا تھا لیکن چار ماہ میں حکومت بنانے میں ناکامی کے بعد نامزد وزیر اعظم ابراہیم جعفری پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کسی ایسے رہنما کے لیے جگہ خالی کر دیں جن کو سنی آبادی اور کردوں کا اعتماد حاصل ہو۔ وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے شیعہ جماعتوں کے اتحاد کے سامنے اپنا نام بھی پیش کیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا اگر ان کو بہتر نہیں سمجھتے تو کوئی نیا رہنما چن لیں۔ ابراہیم جعفری نے قوم سے خطاب سے کرتے ہوئے کہا کہ وہ شیعہ اتحاد کا فیصلہ قبول کریں گے۔ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ابراہیم جعفری کی نامزدگی کو سنی عرب، کردوں اور شیعہ جماعتوں کے اتحاد یونائیٹد عراقی الائنس کے کچھ ارکان نے مسترد کر دیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار جم میؤر نے کہا ہے کہ امید کی جارہی ہے کہ یونائیٹد عراقی الائنس وزیراعظم کے عہدے کے لیئے کسی ایسے امیدوار کو نامزد کرے گی جو تمام دھڑوں کے لیے قابل قبول ہو اور حکومت کی تشکیل میں حائل تعطل کو دور کیا جا سکے۔ سیاسی تعطل کی بنا پر امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے مختلف دھڑوں پر دباؤ ڈال کر ایک وسیع تر اتفاق رائے کی حکومت تشکیل دینے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ اس سیاسی تعطل کی وجہ سے عراق عدم استحکام اور تشدد کا شکار ہے جو سن دو ہزار تین میں امریکی حملے کے بعد پیدا ہوا تھا اور تاحال جاری ہے۔ عراقی پارلیمان کے دوسرے اجلاس سے قبل یونائٹڈ عراقی الائنس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ اگر وزیراعظم کے عہدے کے لیے نئے امیدوار کے نام پر اتفاق نہیں ہوتا تو وہ پارلیمان کے دوسرے اجلاس کا بائیکاٹ کرے۔ ابراہیم جعفری کو اتحاد نے بہت کم اکثریت سے اس سال فروری میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔ اس کے بعد سے ابراہیم جعفری کا یہ استدلال رہا ہے کہ انہیں جمہوری طریقے سے نامزد کیا گیا ہے اور اسی کو بنیاد بناتے ہوئے وہ وزیر اعظم کے عہدے سے دستبرار ہوجانے کے لیے کیئے جانے والے مطالبات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’جعفری کو وزیر اعظم نہ بنایا جائے‘10 April, 2006 | آس پاس نام پراختلاف، اجلاس ملتوی17 April, 2006 | آس پاس مبارک کا بیان، جعفری کی تنقید09 April, 2006 | آس پاس شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ09 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||