’جعفری کو وزیر اعظم نہ بنایا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی سب سے بڑی سنی فرقہ کی جماعت نے ابراہیم جعفری کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے اپنے مطالبے کو دھرایا ہے۔ عراقی سنی جماعت کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب برسراقتدار شیعہ اتحاد یہ معاملہ طے کرنے کے لیئے فیصلہ کن مذاکرات کرنے والا ہے کہ آیا نئی حکومت میں مسٹر ابراہیم جعفری کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیئے اپنا امیدوار بنایا جائے یا نہیں۔ کرد اور کچھ سیکولر جماعتیں پہلے ہی ان کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیئے امیدوار نامزد کرنے کی مخالفت کر چکی ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ شیعہ اتحاد پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مسٹر ابراہیم جعفری کی حمایت ختم کر دے۔ سنی اور کرد سیاسی قیادت کا کہنا ہے کہ مسٹر ابراہیم جعفری اتنے غیر جانبدار اور فرقہ وارانہ تعصبات سے ماورا شخصیت نہیں ہیں کہ ایک وسیع البنیاد قومی حکومت کو چلا سکیں۔ انہوں نے شیعہ جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیئے کسی اور امیدوار کو نامزد کریں۔ | اسی بارے میں شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ09 April, 2006 | آس پاس عراق: خدشات جو حقیقت بن گئے10 April, 2006 | آس پاس عراق پر امریکہ کا اظہارِ تشویش 10 April, 2006 | آس پاس بغداد: خودکش حملے، 79 ہلاک07 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||