شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی انتخابات میں اکثریت سے کامیاب ہونے والے شیعہ اتحاد کے رہنما حکومت سازی کے عمل میں تعطل کے خاتمے اور قومی حکومت کی تشکیل کے لیئے اتوار کے روز ملاقات کررہے ہیں۔ شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کی اس میٹنگ کے ایجنڈے پر سب سے بڑا تنازعہ وزیراعظم ابراہیم جعفری کی قیادت پر اٹھائے جانے والے سوالات ہیں۔ کرد اور سنی سیاست دانوں کا مطالبہ ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل کے لیئے شیعہ اتحاد کوئی دوسرا رہنما منتخب کرے۔ شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کی یہ میٹنگ جمعہ کے روز بغداد میں ایک مسجد پر ہونے والے دھماکوں کے بعد ہورہی ہے جن میں کم سے کم نوے افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لوگوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ کم ہوجائے گا اگر سیاست دان حکومت سازی میں تعطل ختم کردیں۔ دریں اثناء امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے دارالحکومت بغداد کے قریب ایک آپریشن کے دوران آٹھ مشتبہ مزاحمت کاروں کو ہلاک کردیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اس نے مزاحمت کاروں کے ایک ٹھکانے کا محاصرہ کرلیا جس کے بعد وہاں ہونے والی مسلح جھڑپ میں یہ افراد مارے گئے۔ امریکی فوجیوں کا کہنا ہے کہ مسلح جھڑپوں کے بعد انہوں نے اس ٹھکانے سے ہتھیار اور بارود برآمد کیے۔ ایک دوسرے واقعے میں کم سے کم تین افراد اس وقت ہلاک ہوگئے جب سڑک کے کنارے نصب کیا جانے والا ایک بم پھٹ گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اب اگر امریکی افواج عراق سے نکلتی بھی ہیں تو تنازعہ اور سنگین ہو جائے گا۔ العربیہ سیٹلائٹ ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے مصری صدر نے کہا ہے کہ عراق کی شیعہ اکثریت پر ایران کا اثر معاملے کو پیچیدہ بنانے والا عنصر ہے کیونکہ ایران کا اثر صرف باتوں تک محدود نہیں ہے۔ مصری صدر نے کہا کہ اکثر شیعہ اپنے ملک سے زیادہ ایران کے وفادار ہوتے ہیں اور عراق شیعہ آبادی پینسٹھ فی صد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ’میں نہیں سمجھتا کے عراق ان حالات پر کیسے قابو پائےگا۔ میرا تو خیال ہے کہ عراق برباد ہو چکا ہے۔‘ مصری صدر کے یہ تاثرات اس وقت نشر کیے گئے ہیں جب عراق میں ایک اور شیعہ علاقے میں حملہ کیا گیا ہے جس میں چھ افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل عراق کے نائب وزیر داخلہ حسین علی کمال نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال میں تو عراق میں غیراعلانیہ خانہ جنگی گزشتہ ایک سال سے جاری ہے لیکن 22 فروری کو ایک شیعہ مزار پر حملے کے بعد سے کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں کہا کہ ملوث جماعتوں اور گروہوں نے ابھی اس خانہ جنگی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا اور ابھی خانہ جنگی زیادہ بڑے پیمانے پر نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں عراق میں خانہ جنگی نہیں: بش21 March, 2006 | آس پاس خانہ جنگی شروع ہوچکی ہے: علاوی19 March, 2006 | آس پاس عوام خانہ جنگی سے بچیں: صدام حسین 15 March, 2006 | آس پاس عراق خانہ جنگی کے دہانےپر23 February, 2006 | آس پاس عراق: المسیب میں دھماکہ، چھ ہلاک08 April, 2006 | آس پاس ’مضبوط عراقی رہنما کی ضرورت‘03 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||