BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 April, 2006, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: المسیب میں دھماکہ، چھ ہلاک
عراق دھماکے
جمعہ کو ہلاک ہونے والے افراد میں سے بیشتر کو نجف میں دفن کیا گیا ہے
عراق کے جنوبی شہر المسیب میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب عراق کے وزیر داخلہ حسین علی کمال نے کہا ہے کہ ملک میں گزشتہ بارہ ماہ سے غیر اعلانیہ خانہ جنگی جاری ہے۔

یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب بغداد میں تین بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے 75 افراد کی نماز جنازہ پڑھائی جارہی تھی۔

22 فروری کو عراق میں ایک شیعہ مزار پر حملے کے بعد سے کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔ کسی اعلٰی سرکاری اہلکار نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ عراق میں غیر اعلانیہ خانہ جنگی جاری ہے۔

علی کمال نے کہا ہے ’روزانہ شیعہ، سنی، کرد اور عیسائی افراد ہلاک کیئے جارہے ہیں۔ لیکن ان فسادات میں ملوث جماعتوں نے سرکاری طور پر خانہ جنگی کا اعلان نہیں کیا ہے‘۔

تاہم انہوں نے مزید کہا ہے کہ خانہ جنگی ’زیادہ بڑے پیمانے پر نہیں ہے‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولڈرج کا کہنا ہے کہ چند حلقوں کا خیال ہے کہ علی کمال حقائق کو بڑھا چڑھا کر بیان کررہے ہیں۔

عراق کے سب سے بڑے شیعہ گروپ کے رہنما عبدالعزیز حکیم کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ملک میں قومی اتحاد پر مبنی حکومت کے قیام میں رخنہ اندازی کرنا ہے۔

اس قبل جمعہ کو بغداد میں ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے تین خود کش حملوں میں اناسّی نمازی ہلاک ہوگئے۔

یہ حملے مسجدِ براثہ میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد باہر نکلنے والے افراد پر ہوئے ان حملوں میں کم از کم ایک سو ساٹھ افراد زخمی بھی ہوئے۔

پولیس کے مطابق دو خودکش حملہ آوروں نے زنانہ کپڑے پہن رکھے تھے۔

بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے عراق کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس تنبیہ کے بعد ہوئے ہیں جس میں کہا گیا تھا جمعہ کو بغداد کی کسی مسجد پر حملہ ہو سکتا ہے۔ وارننگ میں کہا گیا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ مزاحمت کار شہر میں سات بم دھماکے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے ’ہمارے لوگ خانہ جنگی کے جال میں نہیں پھنسیں گے‘۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے شیعہ زائرین بغداد کے 60 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر المسیب میں ایک مزار کی زیارت پر آئے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
نجف میں دھماکہ دس ہلاک
06 April, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد