فوجی اڈے میں دھماکہ،40 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ممکن ہے کہ کسک نامی گاؤں میں ہونے والایہ دھماکہ ایک خود کش حملہ ہو جس کا نشانہ عراقی فوج کے جوان تھے۔ دھماکے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوئے۔ اس فوجی اڈے پر امریکی اور عراقی فوجی دستے موجود ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مرنے والے تمام افراد عراقی تھے یہ ایک خود کش حملہ تھا اور اس کا نشانہ فوج میں بھرتی ہونے والے عراقی تھے۔ سنہ 2004 میں موصل میں ہی ایک فوجی اڈے پر ہونے والے بم دھماکے میں 18 امریکی اور چار عراقی فوجی اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب عراقی فوجی وردی میں ملبوس ایک خود کش حملہ آور نے امریکی فوج کے میس ٹینٹ میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وُولڈریج کے مطابق کچھ عرصہ پہلے تک پولیس کے بھرتی دفتروں کو مزاحمت کاروں کے حملے ایک عام بات تھی لیکن حالیہ دنوں میں ایسے حملوں کی تعداد میں خاصی کمی آئی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق حالیہ دنوں میں ہونے والے زیادہ تر پرتشدد حملے فرقہ وارانہ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کس طرح بمبار سکیورٹی کے تمام انتظامات کے باوجود فوجی اڈے کے اندر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ حملہ کار بم کے ذریعے کیا گیا۔ کِسک کا قصبہ جہاں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا موصل اور تلفر کے درمیان واقع ہے۔ | اسی بارے میں عراق: ’تیس سر کٹی لاشیں برآمد‘26 March, 2006 | آس پاس عراق جھڑپوں میں بیس ہلاک26 March, 2006 | آس پاس عراق: تشدد میں انیس ہلاک24 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||