BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 March, 2006, 20:22 GMT 01:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق جھڑپوں میں بیس ہلاک
جس علاقے میں جھڑپیں ہوئی ہیں وہ مہدی ملیشیاء کے کنٹرول میں ہے
جس علاقے میں جھڑپیں ہوئی ہیں وہ مہدی ملیشیاء کے کنٹرول میں ہے
عراقی پولیس نے کہا ہے کہ بغداد میں امریکی فوج نے بغداد کے شمال مشرق میں جھڑپوں کے دوران بیس افراد کوہلاک کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق امریکی فوج ایک مفرور کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب اس کی جھڑپ مقتدی الصدر کی ملیشیا کے ارکان سے ہو گئی۔

مقتدی الصدر کی ملیشیاء کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بغداد میں مسجد المصطفیٰ کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو مسجد میں عبادت میں مصروف تھے۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ عراقی پولیس کی مزاحمت کاروں کے ایک اڈے پر کارروائی میں مدد کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں سولہ مزاحمت کار ہلاک اور پندرہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

امریکی فوج نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس کارروائی میں کسی مسجد کو نشانہ بنایا گیا یا مسجد کے اندر گھس کر کارروائی کی گئی۔

دریں اثنا عراقی حکام کے مطابق امریکی فوج نے عراقی وزارتِ داخلہ کے ایک بنکر پر چھاپہ مار کر عراقی پولیس کے چالیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے عراقی پولیس اہلکاروں نے سترہ غیر ملکیوں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔

مقتدی الصدر کے ایک معتمد نے مسجد المصطفیٰ پر کارروائی کے بارے میں کہا کہ امریکی فوج نے نہتے لوگ کو ہلاک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ عبادت میں مصروف تھے۔

مقتدی الصدر کے معتمد حازم الاعرجي نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج نے مسجد کے اندر عبادت میں مصروف معصوم لوگوں کا قتل عام کیا ہے اور ہسپتال کے ذرائع نے اس واقع میں ہلاک ہونے والے میں سے اٹھارہ کی تصدیق کی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے کہا کہ علاقے کے لوگوں نے گولیوں کے تبادلے کی آوازیں سنیں جس کے بعد مسجدِ المصطفیٰ کی طرف ایمبولینسوں کو جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

علاقے کے گلی کوچوں میں سیاہ لباس میں ملبوس مقتدی الصدر کی حامی ملیشیاء کے ارکان بھی موجود تھے۔

اس سے قبل نجف شہر میں مقتدی الصدر کے گھر پر نامعلوم افراد نے راکٹ فائر کیا جس میں ایک بچے اور ایک محافظ کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد