BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 March, 2006, 00:10 GMT 05:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’روس نے عراق کو انٹیلی جنس دی‘
رپورٹ کےمطابق عراقی فوج کی شکست کی ذمہ داری صدام حسین کی بھونڈی حکمتِ عملی تھی
پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو ہزار تین میں امریکہ کی سالاری میں عراق کے خلاف جنگ کے ابتدائی ایام میں روس نے امریکی فوج کی میدانِ جنگ کی حکمتِ عملی کی اطلاعات صدام حسین کو فراہم کیں تھیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدام حسین کی بے محل اور بدھی فوجی قیادت عراقی فوج کی شکست کا سبب بنی۔

رپورٹ کے مطابق روس نے امریکی فوج کی دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے خفیہ اطلاعات بغداد میں اپنے سفیر کے ذریعے صدام حسین تک پہنچائی تھیں۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اطلاعات میں سے ایک اطلاع غلط تھی جس کی وجہ سے امریکی فوج کی ایک ارادی غلط کوشش نے خود امریکی فوج کو فائدہ پہنچایا۔

یہ غلط اطلاع اس امر پر مبنی تھی کہ امریکی فوج بغداد پر بڑا حملہ کس تاریخ کو کرے گی۔

دو اپریل دو ہزار تین کی ایک دستاویز جو عراق کے وزیرِ خارجہ نے صدام حسین کو بھیجی تھی اس میں روسی انٹیلی جینس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بغداد پر حملہ امریکی فوج کے انفینٹری ڈویژن کے پندرہ اپریل کے قریب پہنچنے سے قبل شروع نہیں ہوگا۔

پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق عراقی دارالحکومت پر اصل حملہ اس ڈویژن کے آنے سے کافی پہلے شروع ہوگیا تھا اور بغداد پرامریکی فوج کا قبصہ پندرہ اپریل سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔

اس رپورٹ کےمطابق روسی انٹیلی جینس سے عراق کو یہ پتہ چلا تھا کہ اصل امریکی حملہ کویت کی طرف سے آنے والی امریکی فوج کرے گی۔

عراقی وزیرِ خارجہ کی دستاویز کے مطابق بغداد کا رابطہ دیگر ملک سے کاٹنے کے لیئے امریکی فوج جنوب، مشرق اور شمال کی طرف سے بڑھ رہی تھی۔

تاہم عراق کو روسی خفیہ اطلاعات کے ذریعے یہ پتہ چلا تھا کہ کویت کی طرف سے ہونے والا حملہ صرف عراقی فوج کو بھٹکانے کی ایک کوشش ہے۔

پینٹاگون کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقی حکومت کو امریکہ حملے کی سنگینی کا ہرگز علم نہیں تھا جس کی ذمہ دار صدام حسین کی بے محل اور بھونڈی فوجی قیات تھی۔

دو سو دس صفحات کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’عراقی فوج کی شکست میں سب سے بڑا کردار صدام حسین کی بار بار کی مداخلت نے ادا کیا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد