BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 March, 2006, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: ’تیس سر کٹی لاشیں برآمد‘
جنازہ
عراق کے سابق وزیر اعظم ملک میں جاری تشدد کے واقعات کو خانہ جنگی کی علامت کہہ چکے ہیں
عراق میں حکام نے کہا ہے کہ انہیں بعقوبہ کے قریب تیس سر کٹی لاشیں ملی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔


نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لاشیں ایسے علاقے سے ملیں جہاں سنی اور شیعہ رہتے ہیں اور جہاں فرقہ وارنہ بنیادوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔

لاشیں ایسے وقت ملی ہیں جب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ عراق میں سلامتی کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سال عراق میں موجود امریکی فوج میں قابل ذکر حد تک کمی کی جا سکتی ہے۔ اس وقت عراق میں ایک لاکھ تینتیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پینٹاگون سن دو ہزار چھ میں یہ تعداد کم کر کے ایک لاکھ کرنا چاہتی ہے۔

اتوار کو ہی بغداد میں پولیس نے مختلف علاقوں سے دس افراد کی لاشیں برآمد کیں۔

دریں اثنا نجف میں اطلاعات کے مطابق شیعہ رہنما مقتدی الصدر کے گھر کے قریب مارٹر کا ایک گولا گرا ہے۔ اس حملے میں ایک بچہ اور ایک محافظ زخمی ہوئے ہیں۔

مقتدی الصدر کے رفقاء نے بتایا ہے کہ وہ حملے کے وقت گھر میں موجود تھے لیکن انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے چوکنا رہنے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر قابض قوتیں اس کو جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

ان واقعات کے ساتھ ساتھ بغداد میں متفقہ قومی حکومت کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ عراق میں تین ماہ قبل پارلیمانی انتخابات کے بعد سے حکومت سازی کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد