BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 March, 2006, 12:48 GMT 17:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد اور بم دھماکے،15 ہلاک
کربلا
کربلا میں چہلم کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں
پیر کو عراق پر امریکی حملے کے ٹھیک تین سال مکمل ہونے پر عراق میں بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی اطلاعات ملی ہیں۔

ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ نو افراد کی لاشیں بھی برآمد کی گئی ہیں جو کہ فرقہ وارانہ تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ عراق بھر خصوصاً کربلا میں امام حسین کے چہلم کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیےگئے ہیں۔

پہلا بم دھماکہ بغداد کے جنوبی علاقے مصیب میں ہوا جہاں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ دوسرا بم دھماکہ بغداد کے کرادہ ڈسٹرکٹ میں ہوا جس میں دو پولیس کمانڈو اور دو شہری مارے گئے۔

بغداد اور دیگر علاقوں میں نو افراد کی لاشیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ ان لاشوں پر تشدد کے نشانات ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ عراق میں جاری حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں مارے گئے ہیں۔

تاہم ان حالات کے باوجود امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ عراق میں حکومت سازی کے لیئے کی جانی والی کوششیں حوصلہ افزا ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ امریکی قوم کو اپنی افواج کی قربانیوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔

عراق میں ایک وسیع البنیاد قومی حکومت کے قیام کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ عراق کی سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ حکومت سازی کے سلسلے میں اتفاق رائے کے حصول کے لیئے سخت جدوجہد کرے۔

صدر بش کی عوامی حمایت تیس فیصد سے بھی نیچے چلی گئی ہے

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بِیل کے مطابق بش انتظامیہ امریکی عوام کو یہ باور کرانے کے لیئے سخت کوشش کر رہی ہے کہ عراق میں صورتِ حال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور یہ کہ، صدر بش کے الفاظ میں، فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق عراق میں سیاسی پیش رفت امریکی عوام میں صدر بش کی کم ہوتی ہوئی حمایت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق عراق میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے صدر بش کی عوامی حمایت مزید کم ہو کر تیس فیصد سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔

دریں اثناء بش انتظامیہ نے عراق کے سابق عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کھا تھا کہ عراق میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ سکتا ہے۔

امریکی نائب صدر ڈِک چینی نے اس بات کو تو تسلیم کیا کہ عراق میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تشدد کی تازہ لہر کو شورش کو ہوا دینے کے لیئے مزاحمت کاروں کی آخری کوشش قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے خبردار کیا تھا کہ ’اس وقت عراق سے فوجی انخلاء ،جرمنی کو نازیوں کے حوالے کر دینے کے برابر ہو گا‘۔

عراق میں تشدد کے ساتھ ساتھ سیاسی بحران بھی جاری ہے اور سیاسی جماعتیں ابھی تک نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں ڈیڈ لاک کا شکار ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے مذاکرات مزید ایک ہفتے کے لیئے ملتوی کر دیے ہیں تاہم یہ جماعتیں مذاکرات جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اہم معاملات چلانے کے لیئے ایک سکیورٹی کونسل کی تشکیل پر متفق ہو گئی ہیں۔

عراقعراق: مایوس کہانی
عراق ناقابل یقین الجھاؤ کا شکار ہے: امریکی اہلکار
کم ہاولز’حالات خراب ہیں‘
عراق کی صورتحال پر برطانوی وزیر کا اعتراف
بلیئرخدائی فیصلے پر تنقید
عراق جنگ کا خدائی فیصلہ، بلیئر پر تنقید
پارلیمان کا اجلاس
کیا نئی قیادت سیاسی استحکام قائم کرسکے گی؟
امریکی انسانی حقوق
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکی رپورٹ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد