 | | | صدر بش کی عوامی حمایت مزید کم ہو کر تیس فیصد سے بھی نیچے چلی گئی ہے |
صدر بش نے کہا ہے کہ عراق میں حکومت سازی کے لیئے کی جانی والی کوششیں حوصلہ افزا ہیں۔ عراق پر امریکہ کی سربراہی میں ہونے والے حملے کو تین سال مکمل ہونے پر صدر بش نے کہا کہ امریکی قوم کو اپنی افواج کی قربانیوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ عراق میں ایک وسیع البنیاد قومی حکومت کے قیام کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ عراق کی سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ حکومت سازی کے سلسلے میں اتفاق رائے کے حصول کے لیئے سخت جدوجہد کرے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بِیل کے مطابق بش انتظامیہ امریکی عوام کو یہ باور کرانے کے لیئے سخت کوشش کر رہی ہے کہ عراق میں صورتِ حال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور یہ کہ، صدر بش کے الفاظ میں، فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق عراق میں سیاسی پیش رفت امریکی عوام میں صدر بش کی کم ہوتی ہوئی حمایت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق عراق میں سیاس عدم استحکام کی وجہ سے صدر بش کی عوامی حمایت مزید کم ہو کر تیس فیصد سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ درایں اثناء بش انتظامیہ نے عراق کے سابق عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کھا تھا کہ عراق میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ سکتا ہے۔ امریکی نائب صدر ڈِک چینی نے اس بات کو تو تسلیم کیا کہ عراق میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تشدد کی تازہ لہر کو شورش کو ہوا دینے کے لیئے مزاحمت کاروں کی آخری کوشش قرار دیا۔ دوسری طرف امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے خبردار کیا کہ اس وقت عراق سے فوجی انخلاء ایسا ہی ہے جیسا جرمنی کو نازیوں کے حوالے کر دینا۔ |