کربلا دھماکہ،سخت حفاظتی انتظامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے جنوبی شہر کربلا کے وسطی علاقے میں ایک مارٹر دھماکہ ہوا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ عراقی پولیس کے ترجمان رحمان موسوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’امام حسین کے روضے سے ڈیڑھ سو میٹر دور ایک مارٹر گولہ ایک پارکنگ لاٹ میں گرا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘۔ اے ایف پی کے مطابق عراق بھر سے شیعہ امام حسین کے چہلم کے موقع پر کربلا پہنچے ہوئے ہیں اور کربلا تک کے اس سفر میں اب تک ایک درجن کے قریب شیعہ زائرین سڑک کے کنارے نصب بموں کے پھٹنے سے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ امام حسین کے چہلم کے موقع پر امریکی اور عراقی افواج نے کربلا شہر اور گردونواح میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں اور کویت میں تعینات سات سو امریکی فوجیوں کا ایک دستہ بھی کربلا میں حفاظتی انتظامات سنبھالنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ تین سال قبل صدام حسین کے زوال کے بعد سے سنی مزاحمت کار شیعہ مسلک کے افراد پر مذہبی تقاریب کے موقع پر حملے کرتے رہے ہیں اور مارچ سنہ 2004 میں عاشورہ کے موقع پر کربلا اور بغداد میں ہونے والے خودکش حملوں میں 170 افراد مارے گئے تھے۔ | اسی بارے میں امریکی فوج کا حملہ،11 افراد ہلاک15 March, 2006 | آس پاس عراق میں امن کے لیے مذاکرات26 February, 2006 | آس پاس عراق میں کرفیو کے باوجود 36 ہلاک25 February, 2006 | آس پاس عراق: حملوں میں 80 افراد ہلاک05 January, 2006 | آس پاس کربلا میں اجتماعی قبر دریافت27 December, 2005 | آس پاس بغداد کار بم حملے میں گیارہ ہلاک19 November, 2005 | آس پاس خودکش حملے میں اکہتر ہلاک17 July, 2005 | آس پاس خود کش حملہ 60 ہلاک 80 زخمی16 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||