بغداد کار بم حملے میں گیارہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکام نے کہا ہے کہ بغداد جنوب مشرقی حصے میں کار بم کے ایک دھماکے میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں کم از کم پندرہ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ دیالہ پل کے نزدیک ایک پرہجوم مارکیٹ میں ہوا۔ یہ دھماکہ جمعہ کے روز ہونے والے ان دھماکوں کے بعد ہوا جن میں اسّی سے زائد افردا ہلاک اور تقریباً سو کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ ایک دھماکہ بغداد کے ایک ہوٹل کے قریب ہوا تھا جبکہ دو دھماکے عراق کے شمال مشرق میں خانقین کے مقام پر واقع اہلِ تشیع کی دو مساجد میں ہوئے۔ خانقین میں کرد اور شیعہ رہتے ہیں اور یہ جگہ ایرانی سرحد کے قریب ہے۔ اس سے قبل کار بم کے دو دھماکے ہوئے تھے جن میں چھ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکے بغداد میں وزارتِ داخلہ کی عمارت کے باہر ہوئے جو اس وقت خفیہ جیلوں میں قیدیوں پر مبینہ تشدد کے حوالے سے بدنام ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نشانہ قریب ہی واقع ایک ہوٹل ہو جہاں غیرملکی صحافی قیام کرتے ہیں۔
شیعہ مساجد میں حملے کے ذمہ دار خود کش بمبار بتائے جاتے ہیں جنہوں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اس وقت اڑا دیا جب لوگ نماز کی ادائیگی کے لیے مساجد میں آئے ہوئے تھے۔ دیالہ کی صوبائی کونسل کے رہنما ابراہیم حسن البجلان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’دو افراد جنہوں نے اپنے جسموں سے دھماکہ خیز مواد باندھ رکھا تھا خانقین کی بڑی اور چھوٹی مسجد میں داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘ | اسی بارے میں خود کش حملوں میں درجنوں ہلاک18 November, 2005 | آس پاس عراق:دس فیصد غیرملکی جنگجو18 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||