BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 April, 2006, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مبارک کا بیان، جعفری کی تنقید
ابراہیم جعفری
حکومت سازی میں تعطل برقرار ہے
عراقی حکومت نے مصرکے صدر حسنی مبارک کے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے عراق میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کو خانہ جنگی سے تعبیر کیا تھا۔

سنی عرب اور کرد رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں عراقی وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے مصری صدر کے اس بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مذہبی عقائد رکھنے والے عراقی حسنی مبارک کے اس بیان سے دلبراشتہ ہوئے ہیں جبکہ عراقی حکومت کے لیے یہ بیان حیران کن ہے۔

انہوں نے حسنی مبارک کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابھی عراقی خانہ جنگی سے بہت دور ہیں۔

مصر کے صدر حسنی مبارک نے ایک عرب ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ عراق خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

اس سے قبل عراق کی شیعہ اکثریتی گروپ کے رہنماؤں نے حکومت سازی میں حائل تعطل کو دور کرنے کے لیے مذاکرات کیئے۔

انہوں نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے بنائی گئی ہے کہ کیا ابراہیم جعفری کو وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے۔

یہ کمیٹی سوموار کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

امریکی فوج کے مطابق مارچ میں فرقہ وارانہ وارداتوں میں ایک ہزار تین سو تیرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ تشدد کے ان واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ بہت سے ہلاک شدگان کی لاشیں بھی دستیاب نہیں کی ہو سکی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد