مبارک کا بیان، جعفری کی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکومت نے مصرکے صدر حسنی مبارک کے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے عراق میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کو خانہ جنگی سے تعبیر کیا تھا۔ سنی عرب اور کرد رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں عراقی وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے مصری صدر کے اس بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مذہبی عقائد رکھنے والے عراقی حسنی مبارک کے اس بیان سے دلبراشتہ ہوئے ہیں جبکہ عراقی حکومت کے لیے یہ بیان حیران کن ہے۔ انہوں نے حسنی مبارک کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابھی عراقی خانہ جنگی سے بہت دور ہیں۔ مصر کے صدر حسنی مبارک نے ایک عرب ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ عراق خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اس سے قبل عراق کی شیعہ اکثریتی گروپ کے رہنماؤں نے حکومت سازی میں حائل تعطل کو دور کرنے کے لیے مذاکرات کیئے۔ انہوں نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے بنائی گئی ہے کہ کیا ابراہیم جعفری کو وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے۔ یہ کمیٹی سوموار کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ امریکی فوج کے مطابق مارچ میں فرقہ وارانہ وارداتوں میں ایک ہزار تین سو تیرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ تشدد کے ان واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ بہت سے ہلاک شدگان کی لاشیں بھی دستیاب نہیں کی ہو سکی ہیں۔ | اسی بارے میں عراقی خانہ جنگی کے پھیلاؤ کاخطرہ09 April, 2006 | آس پاس شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ09 April, 2006 | آس پاس امریکہ کےمزاحمت کاروں سے مذاکرات07 April, 2006 | آس پاس بغداد: خودکش حملے، 79 ہلاک07 April, 2006 | آس پاس عراق: المسیب میں دھماکہ، چھ ہلاک08 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||