’کچھ حصے پر عراقی فوج کا کنٹرول‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ اور عراق کے وزرائے اعظم نے بغداد میں ملاقات کے بعد عراق کے کچھ حصوں کو خود عراقی فوج کے کنٹرول میں دیئے جانے کے امکان کا اظہار کیا ہے۔ عراق کے اچانک دورے میں اپنے عراقی ہم منصب سے ملاقات کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ عراقی حکومت کے قیام کے بعد عراق میں خون خرابے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا عراق میں نئی صبح کا آغاز ہو گیا ہے جس سے عراقیوں کو اپنی تقدیر کا مالک بننے کا موقع ملے گا۔ دریں اثناء عراق میں تشدد کے واقعات پیر کو بھی جاری رہے جن میں شوٹنگ اور بم حملوں میں گیارہ افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں نوجوانوں کی وزارت کے ڈائریکٹر جنرل حامد حسن بھی شامل ہیں جنہیں جنوبی بغداد میں اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ اپنے دفتر کی طرف روانہ تھے۔
تشدد کے واقعات میں بغداد کے جنوب میں پولیس کی گشت کرنے والی ایک ٹیم پر بم حملہ ہوا جس میں چار پولیس اہلکار مارے گئے۔ بغداد کی مارکیٹ میں بم حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو افراد پولیس پارٹی پر حملے میں مارے گئے۔ بعقوبہ میں موبائل کمپنی کا ایک ملازم مارا گیا۔ ٹونی بلئیر نے نوری المالکی کی حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ تین برس کی جس جدوجہد کے نتیجے میں عراق کو قومی یکجہتی کی پہلی حکومت ملی ہے، وہ کسی کی بھی توقع اور خواہش سے زیادہ کٹھن ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس برس سے آہستہ آہستہ ملک میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں خود عراقی دستوں کو سونپی جائیں گی۔ لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اس کا دارومدار زمینی صورتحال پر ہوگا۔ لیکن برطانوی وزیراعظم کے مقابلے میں عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے کسی ابہام کے بغیر کہا کہ عراقی دستے اسی برس جون سے سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ بعد میں برطانوی وزیردفاع نے بھی یہی بات کہی اور یہ بھی بتایا سب سے پہلے برطانوی انتظام سے دو صوبے عراقی دستوں کے حوالے کیے جائیں گے اور پھر اس برس کے اختتام تک بغداد اور الانبار کے سوا پورے عراق کا کنٹرول عراقی دستوں کے حوالے کردیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت کا قیام بڑی کامیابی ہے اور یہ عراق کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ لیکن انہوں نے ساتھ ہی عراق میں ابوغریب جیل کی زیادتیوں جیسے واقعات کا ذکر بھی کیا اور انہیں غلطی قرار دیا۔ | اسی بارے میں برطانوی وزیراعظم عراق پہنچ گئے22 December, 2005 | آس پاس گوانتاناموکاخاتمہ ضروری ہے: بلیئر22 November, 2005 | آس پاس ’عراق سے فوجیں نہیں نکالیں گے‘27 September, 2005 | آس پاس الجزیرہ کا ٹونی بلیئر کو خط26 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||