BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الجزیرہ کا ٹونی بلیئر کو خط
الجزیرہ
الجزیرہ کے عملے نے امریکی صدر کے بیان پر احتجاج کیا ہے
عربی ٹیلی وژن چینل الجزیرہ کے سربراہ وضاح خنفر برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو ایک خط پیش کرنے والے جس میں ان رپورٹوں کی حقیقت بتانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کے تحت صدر بش نے الجزیرہ ٹی وی چینل کو بم سے اڑانے کی تجویز پیش کی تھی۔

خنفر چاہتے ہیں کہ وہ یادداشت شائع کی جائے جس میں مبینہ طور پر ٹونی بلیئر اور صدر بش کے درمیان الجزیرہ کے صدر دفتر کو بم سے اڑانے کی بات ہوئی تھی۔

گزشتہ ہفتے برطانوی اخبار ’ڈیلی مرر‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس موضوع پر گزشتہ برس بات ہوئی تھی۔

خنفر چاہتے ہیں کہ حقیقت کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیئے اور اس پر بہت جلد بات ہونی چاہیئے۔

برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے اخبارات کے مدیروں کو خبردار کیا تھا کہ اس خبر کو شائع نہ کریں۔ انہوں نے اس کی وجہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ یا سرکاری رازوں کو رکھنے کا قانون بتایا۔

لیک شدہ دستاویز کے مطابق صدر بش نے قطر میں موجود الجزیرہ ٹی وی چینل کو بم سے اڑانے کی بات کی تھی لیکن برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے ان کو سمجھا بجھا کر ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔

الجزیرہ
امریکہ الزام لگاتا ہے کہ الجزیرہ کے القاعدہ تنظیم سے روابط ہیں

الجزیرہ نے وائٹ ہاوس سے بھی کہا ہے کہ وہ اس وضاحت دے۔

وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور گفتگو کی خبر کو ’عجیب‘ کہا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے کھلے عام الجزیرہ پر القاعدہ کا نمائندہ کہا ہے۔

خنفر نے کہا کہ ’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ دستاویز موجود ہے یا نہیں۔ اور آیا مسٹر بش اور مسٹر بلیئر کے درمیان یہ گفتگو ہوئی ہے کہ نہیں۔ اس یاداشت نامے میں ایسی بات کہی گئی ہے جو ہمارے لیے، ہمارے ناظرین کے لیے، اور ہمارے صحافیوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یا تو اس دستاویز کے وجود کو مسترد کیا جائے، یا پھر اس کے وجود کی تصدیق کی جائے‘۔

خنفر نے مزید کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے کہ اگر ایسی گفتگو ہوئی بھی تو شاید صدر بش مذاق سے کہہ رہے ہوں گے کہ الجزیرہ پر بمباری کی جائے۔ لیکن خنفر کا کہنا ہے کہ یہ مذاق کی بات نہیں ہے۔ ’ہمارے خیال میں اسے مذاق میں ٹالا نہیں جا سکتا۔ اس کی باقاعدہ طور پر تفتیش ہونی چاہیئے۔ اور اگر یہ مذاق بھی تھا تو کرۂ ارض پر سب سے بڑی طاقت کے سربراہ کے ’مذاق‘ کو تو ایسے ہی نہیں ٹالنا چاہیئے‘۔

اسی بارے میں
الجزیرہ کا نیا امیج
17 June, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد