الجزیرہ کا ٹونی بلیئر کو خط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عربی ٹیلی وژن چینل الجزیرہ کے سربراہ وضاح خنفر برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو ایک خط پیش کرنے والے جس میں ان رپورٹوں کی حقیقت بتانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کے تحت صدر بش نے الجزیرہ ٹی وی چینل کو بم سے اڑانے کی تجویز پیش کی تھی۔ خنفر چاہتے ہیں کہ وہ یادداشت شائع کی جائے جس میں مبینہ طور پر ٹونی بلیئر اور صدر بش کے درمیان الجزیرہ کے صدر دفتر کو بم سے اڑانے کی بات ہوئی تھی۔ گزشتہ ہفتے برطانوی اخبار ’ڈیلی مرر‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس موضوع پر گزشتہ برس بات ہوئی تھی۔ خنفر چاہتے ہیں کہ حقیقت کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیئے اور اس پر بہت جلد بات ہونی چاہیئے۔ برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے اخبارات کے مدیروں کو خبردار کیا تھا کہ اس خبر کو شائع نہ کریں۔ انہوں نے اس کی وجہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ یا سرکاری رازوں کو رکھنے کا قانون بتایا۔ لیک شدہ دستاویز کے مطابق صدر بش نے قطر میں موجود الجزیرہ ٹی وی چینل کو بم سے اڑانے کی بات کی تھی لیکن برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے ان کو سمجھا بجھا کر ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔
الجزیرہ نے وائٹ ہاوس سے بھی کہا ہے کہ وہ اس وضاحت دے۔ وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور گفتگو کی خبر کو ’عجیب‘ کہا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے کھلے عام الجزیرہ پر القاعدہ کا نمائندہ کہا ہے۔ خنفر نے کہا کہ ’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ دستاویز موجود ہے یا نہیں۔ اور آیا مسٹر بش اور مسٹر بلیئر کے درمیان یہ گفتگو ہوئی ہے کہ نہیں۔ اس یاداشت نامے میں ایسی بات کہی گئی ہے جو ہمارے لیے، ہمارے ناظرین کے لیے، اور ہمارے صحافیوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یا تو اس دستاویز کے وجود کو مسترد کیا جائے، یا پھر اس کے وجود کی تصدیق کی جائے‘۔ خنفر نے مزید کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے کہ اگر ایسی گفتگو ہوئی بھی تو شاید صدر بش مذاق سے کہہ رہے ہوں گے کہ الجزیرہ پر بمباری کی جائے۔ لیکن خنفر کا کہنا ہے کہ یہ مذاق کی بات نہیں ہے۔ ’ہمارے خیال میں اسے مذاق میں ٹالا نہیں جا سکتا۔ اس کی باقاعدہ طور پر تفتیش ہونی چاہیئے۔ اور اگر یہ مذاق بھی تھا تو کرۂ ارض پر سب سے بڑی طاقت کے سربراہ کے ’مذاق‘ کو تو ایسے ہی نہیں ٹالنا چاہیئے‘۔ | اسی بارے میں ’بش کے بیان کی تفتیش کریں‘26 November, 2005 | آس پاس ’بش الجزیرہ پر حملہ چاہتے تھے‘22 November, 2005 | آس پاس الزام مضحکہ خیز ہے: وائٹ ہاؤس22 November, 2005 | آس پاس سپین: الجزیرہ کا صحافی پھر گرفتار17 September, 2005 | آس پاس الجزیرہ کا نیا امیج17 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||