BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 May, 2006, 21:16 GMT 02:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسجد کے باہر دھماکہ، گیارہ ہلاک
عراقی وزیرِ اعظم عندیہ دے چکے ہیں کہ جلد ہی ملک کے کچھ حصووں کا کنٹرول عراقی فوج کے حوالے کیا جا سکتا ہے
بغداد میں منگل کو ایک شیعہ مسجد کے باہر دھماکے سے گیارہ افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔ اس واقعے سے محض چند گھنٹے قبل کار بم دھماکوں میں دس افراد مارے گئے تھے۔

حکام نے بتایا کہ بظاہر ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بم مسجد کے قریب ایک موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا تھا۔

اس سے قبل پولیس کمانڈوز پر ایک حملہ ہوا تھا جس میں مشرقی بغداد میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ایک دوسرے دھماکے میں بھی جو صدر کے علاقے میں ہوا، پانچ افراد مارے گئے تھے۔ یہ علاقہ جو بغداد کے شمال مشرق میں واقع ہے تقریباً بیس لاکھ شیعہ رہتے ہیں۔

ان واقعات کے علاوہ تین اشخاص اس وقت مارے گئے جب مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر گولیاں داغ دیں۔ یہ لوگ کام کی تلاش میں بعقوبہ جا رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے سے آئے تھے۔

تشدد کے یہ تازہ ترین واقعات بغداد میں گزشتہ روز برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کی آمد اور عراقی وزیرِ اعظم المالکی سے ان کی ملاقات کے اگلے روز رونما ہوئے ہیں۔

دونوں وزرائے اعظم نے اپنی بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اسی برس عراقی فوج کو عراق کے کم از کم کچھ حصووں کا کنٹرول سونپ دیا جائے۔ برطانوی وزیرِ اعظم کا خیال تھا کہ ایسا اگلے چند ماہ میں ممکن ہو سکے گا لیکن ان کے عراقی ہم منصب نے امید ظاہر کی تھی کہ عراقی فوج کو کچھ حصووں کا کنٹرول اگلے چند ہفتوں میں دیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد