BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 May, 2006, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشت گردی سے نپٹنے کا عہد
حکومت کے علاوہ کسی دوسرے کو ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: مالکی
عراق کے نومنتخب وزیراعظم نوری المالکی نے کہا ہے وہ دہشت گردی کے خلاف ’بھرپور طاقت‘ استعمال کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ قومی ہم آہنگی کو فروغ دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار مسٹر مالکی نے عراق کی نئی کابینہ کے پہلے اجلاس کے دوران کیا۔

نومنتخب وزیر اعظم نے کہا کہ ’ حکومت کے علاوہ کسی دوسرے کو ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دہشتگردی، قتل وغارت اور ہلاکتیں معمول کی باتیں نہیں ہیں اور ہمیں ملک سے ملیشیا کا خاتمہ کرنا ہے۔‘

دہشگردی کے خاتمے کے عہد کا اظہار کرنے کے علاوہ مسٹر مالکی نے حالات کو معمول پر لانے کے لیے قومی سطح پر مفاہمت اور دیگر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اگرچہ عراقی کابینہ میں سنی، شیعہ اور کرد جماعتوں کو شامل کیا گیا ہے تاہم ابھی تک تین اھم وزارتوں (قومی سلامتی، امور داخلہ اور دفاع) کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

مسٹر مالکی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان تین وزارتوں کے بارے میں اتفاق رائے آئندہ دو تین دنوں میں ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بغداد کی سکیورٹی کے لیے ایک مجوزہ خصوصی فورس کے خد وخال بھی بیان کیے۔

عراقخوف کےسائے
بصرہ کے لوگ خوف کے سائے تلے زندہ ہیں
اپریل کا خونی مہینہ
بغداد میں حالیہ تشدد سے ہزار سے زیادہ ہلاکتیں
عراقی تقسیم ہوگئے
نتائج سے مزاحمت کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں
عراق65ہزار کی نقلِ مکانی
عراق میں عراقیوں کی بے گھری اور بڑھ گئی
عراق تین سال بعد
حملے سےقبل کے خدشات جو حقیقت بن گئے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد