عراق، بم دھماکے و تشدد، 39 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ جب کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں بغداد کے جنوب میں واقع مصعیب نامی قصبے سے پندرہ لاشیں ملی ہیں جنہیں بظاہر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کیا گیا ہے۔ دو دھماکوں میں سے پہلا دھماکہ بغداد کے علاقے صدر سٹی علاقے میں ہوا جس میں پولیس کے مطابق کم از کم 19 افراد ہلاک اور58 زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بم دھماکہ صدر سٹی کے علاقے میں واقع ایک بس سٹینڈ پر ہوا۔پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد مزدوروں کی تھی جو کام کی تلاش میں وہاں جمع ہو رہے تھے۔ یومیہ اجرت کے لیے کام کرنے والے مزدوروں کو اس سے پہلے بھی دھماکوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
دوسرا دھماکہ شام کی سرحد کے قریب واقع قائم نامی علاقے میں ہوا جہاں ایک خود کش بم بار نے ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں بم بار سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور دس زخمی بتائے جاتے ہیں۔ یہ بم دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب عراقی پارلیمنٹ 2003 میں اتحادی حملے کے بعد وجود میں آنے والی پہلی مکمل کابینہ کی منظوری دینے والی ہے۔ کابینہ میں میں شیعہ، کرد اور سنی پارٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔ مختلف شیعہ گروہوں کی کابینہ پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکامی اور بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں عراق خاہ جنگی کی طرف تو نہیں جا رہا۔ | اسی بارے میں ’اٹلی فوج واپس بلا سکتا ہے‘19 May, 2006 | آس پاس عراق: تشدد میں چالیس افراد ہلاک14 May, 2006 | آس پاس عراق : کار بم دھماکے، ہلاکتیں07 May, 2006 | آس پاس امریکہ نے سمگلنگ کی: ایمنسٹی10 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||