’اٹلی فوج واپس بلا سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی کے نومنتخب وزیرِ اعظم رومانو پروڈی نے کہا ہے کہ عراق میں جنگ ایک سنگین غلطی تھی اور ان کی حکومت عراق سے اطالوی فوجیوں کو واپس بلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ رومانو پروڈی نے جو حالیہ الیکشن میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سلویسٹر برلسکونی کو ہرا کر نئے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں، سینیٹ میں اپنی پہلی تقریر میں کہا ہے کہ عراق پر حملہ ایک سنگین غلطی تھی۔ رومانو پروڈی نے کہا کہ ان کی حکومت یہ ارادہ رکھتی ہے کہ سینیٹ کے سامنے یہ سوال رکھا جائے کہ کیا اطالوی فوجیوں کو عراق سے واپس بلا لیاجانا چاہیے۔ چھبیس سو اطالوی فوجی عراق میں تعینات ہیں۔رومانو پروڈی نے عراق سے اطالوی فوجیوں کی واپسی کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔ روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ویلی کے مطابق رومانو پروڈی کے بیان سے اٹلی کی سینٹ میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے اراکین نے شیم شیم کے نعرے بلند کیے۔ اٹلی کے وزیر اعظم کا خیال ہے کہ عراق جنگ کا کوئی فائدہ نہیں اور خبردار کیا کہ مغربی ممالک کے ردعمل سے دنیا میں بیناد پرستی کو ہوا ملے گئی۔ رومانو پروڈی نے واضح کیا کہ اٹلی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک رہے گا لیکن ان کے خیال میں دہشت گردی سے نپٹنے کے لیے ’سیاسی اور انٹیلیجنس ہتھیاروں‘ کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ | اسی بارے میں اٹلی:صلیب نہ لگانے پر جج کی معطلی03 February, 2006 | آس پاس اٹلی: پناہ گزینوں کا بے دخلی پر احتجاج22 July, 2004 | آس پاس اٹلی: چھ مسلمانوں کی بے دخلی 12 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||