اٹلی:صلیب نہ لگانے پر جج کی معطلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی میں ایک جج کو اس وجہ سے بلا تنخواہ معطل کردیا گیا ہے کہ اس نےعدالت میں صلیب لگا کر کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اٹلی میں جج کے صلیب لگانا قانونی طور پر ضروری ہے۔جج لوئیجی توستی کو دسمبر میں ایک عدالت نے قانون شکنی کا مجرم قرار دیا تھا لیکن ان کو دی جانے والی سات مہینے قید کی سزا پر عمل در آمد معطل رکھا گیا تھا۔ جج کی طرف سے صلیب کے سائے میں انصاف فراہم کرنے سے انکار کرنے پر اٹلی میں عدلیہ میں تعیناتی کی نگرانی کرنے والے ادارے نے جج کو بلا تنخواہ معطل کر دیا ہے۔ جج توستی نے روم میں بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ وہ یہودی مذہب سے ہمدردی رکھتے ہیں اور انہوں نے حکام کو پیش کش کی تھی کہ صلیب کی بجائے یہودیوں کا مذہبی نشان مینورہ لگانے کے لیۓ تیار ہیں لیکن حکام نے اجازت نہیں دی۔ اٹلی میں 1920 میں بننے والے ایک قانون کے مطابق عدالتوں اور سکولوں میں صلیب کو لگانا ضروری ہے۔ جج نے کہا یہ مذہبی تفریق ہے اور اٹلی کے آئین میں عقیدے کی آزادی کی ضمانت کے منافی ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ عیسائیت کی طرف راغب01 November, 2004 | آس پاس اٹلی: چھ مسلمانوں کی بے دخلی 12 August, 2005 | آس پاس پوپ پر حملہ کرنے والا پھر جیل میں21 January, 2006 | آس پاس عیسائیت اور ابلیسیت کے بعد معذرت18 October, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||