BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 November, 2004, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ عیسائیت کی طرف راغب

جان کیری چرچ میں
امریکی سیاست میں چرچ کا آج بھی ایک کردار ہے
آئینی اور قانونی نقطۂ نظر سے امریکہ سیکولر ملک ہے لیکن یہاں کی روایات، سماج اور سیاست میں عیسائیت کا گہرا رنگ باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

امریکی صدر بش کا تعلق عیسائیت کی ایک شاخ میتھوڈسٹ سے ہے۔ ٹیکساس جس کو مذہبی طور ایک کٹر ریاست سمجھا جاتا ہے۔ ٹیکساس کے ایک دور دراز علاقے ہلز برا میں ایک بڑا میتھوڈسٹ چرچ کے سینئیر پیسٹر ڈیوڈ ایٹکنز کے مطابق تمام مغربی ملکوں کی طرح امریکہ میں بھی چرچ کو پچھلے چالیس، پچاس برسوں میں اس چیلنج کا سامنا رہا ہے کہ کیسے بدلتے ہوئے سماج میں رہا جائے اور اسے قیادت بھی مہیا کی جائے۔

پیسٹر ڈیوڈ ایٹکنز کے مطابق چرچ کو تو خدائی احکامات کے مطابق اس دنیا سے بلند ہونا چاہیے لیکن پھر بھی چرچ کوسماج کی مانند ہرطرح کے سیاسی چیلنج کا سامنا رہتا ہے۔

پادری ڈیوڈ ایٹکنز کےمطابق سیکولرامریکہ میں بھی سیاست کی بنیاد عیسائی عقیدے پر استوار ہے۔ صدر بش کے اپنے قصبے کرافرڈ میں ان کی حامی ایک خاتون ٹریسا بالڈن کا کہنا ہے کہ ” کہ امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی خدااور یسوع مسیح پر یقین رکھتی ہے اور ویسے بھی تاریخی طور پر امریکیوں کی اکثریت عیسائی رہی ہے۔‘

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد امریکہ نئے سرے سے ایک عیسائی مذہبی ریاست کی جانب بڑھ رہا ہے۔

پادری ایٹکنز کے مطابق بہت سے ملکوں کی بنیاد میں بعض مذہبی آئیڈیل شامل ہوتے ہیں اور امریکہ کے معاملے میں بھی یہی ہے۔ لیکن امریکی آئین میں شہری حقوق اور مذہبی آزادیوں کی ضمانت دی گئی ہے جو ہر طرح کی اقلیتوں کے لیے بھی ہیں۔

ڈیوڈ ایٹکنز کہتے ہیں ’ میں تو امریکہ کو نئے سرے سے بننے والی عیسائی ریاست کہنا پسند نہیں کرتا۔ لوگ مذہب اختیار کرتے ہیں، قومیں اور ریاستیں نہیں‘۔

گزشتہ تین برسوں کے حالات ، واقعات اور امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کے نتیجے میں اگر قدامت پسند مذہبی امریکی اگر صدر بش کا غیرمعمولی حامی بن گئے ہیں توسیکولر اور لبرل امریکی بھی شدت کے ساتھ ان کے خلاف صف آراء ہوگئے ہیں۔

ٹیمپا فلوریڈا کے ایک مکین ڈینی میک کینن کہتے ہیں کہ صدر بش کو تو اس ملک کو متحد کرنا تھا لیکن وہ تو امریکہ کو انتہائی دائیں جانب لے گئے ہیں۔ اگر ہم نے جلد ہی اس کا تدارک نہیں کیا تو مجھے تو بہت پریشانی ہے کہ امریکہ کس جانب جارہا ہے۔

لیکن پادری ڈیوڈ ایٹکنز کہتے ہیں بات یہ ہے کہ سیاست سے ہٹتے ہوئے عام امریکی صدر بش کوبالکل اپنے جیسا محسوس کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔

ان کے خیال میں جارج بش میرا نہیں خیال کہ وہ کسی بھی دوسرے امیدوار سے زیادہ کسی مخصوص مذہبی گروہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ پرانی مذہبی روایات کےتحفظ کی بات کرتے ہیں اور خصوصاً گیارہ ستمبر کے بعد امریکی شاید یہی بات سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔

اور ان متضاد باتوں کے تناظر میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیکولر امریکہ میں موجودہ انتخابات قدامت پسند کٹر عیسائیوں اور آزاد خیال اور سیکولر حلقوں میں معرکے کا رخ بھی اختیار کرگئے ہیں جس کا نتیجہ اب دور نہیں رہ گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد