پوپ پر حملہ کرنے والا پھر جیل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوپ جان پال پر پچیس برس پہلے حملہ کرنے والے ترکش باشندے محمت علی کو دوبارہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ محمت علی کو پچھلے ہفتے ہی عدالت نے رہائی کا حکم دیا تھا۔ محمت علی نے 1981 میں وٹیکن میں پوپ جان پر حملہ کیا تھا۔ محمت جن کی عمر اڑتالیس برس ہے، تئیس برس کی عمر سے ہی جرم کے لیے مشہور تھے۔ پوپ جان پال کی جانب سے محمت علی کو معاف کیے جانے کے باوجود وہ بیس سال تک اٹلی کی جیل میں رہے۔ عدالت کی سے رہائی ملنے کے بعد ترکی کی حکومت نے ملک کی سب سے اعلی عدالت میں عدالت کے محمت علی کو رہائی دینے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ترکی کی حکومت کا موقف ہے کہ محمت علی کو اپنے جرم کی سزا بھگتنی چاہیے۔ محمت علی نے 1981 میں سینٹ پیٹر سکوائر میں عیسائیوں کے روحانی پیشوا جان پال پر اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ لوگوں کے جذبات کے اظہار میں اپنا ہاتھ ہلا رہے تھے۔ اس وقت پوپ جان پال کھلی گاڑی استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے پوپ جون پال پر کئی گولیاں چلائی تھیں جو ان کے پیٹ اور ہاتھ پر لگی تھیں۔ زخمی پوپ کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا تھا جہاں آپریشن کے بعد ان کی جان بچ گئی تھی۔ | اسی بارے میں پوپ جان پال: حملہ آور کی رہائی12 January, 2006 | آس پاس پوپ جان کون اور کیا تھے02 April, 2005 | آس پاس ’دنیا کی سب سے اہم گاڑی‘ نیلام30 October, 2005 | آس پاس پوپ جان پال پر فلم کا افتتاح17 April, 2005 | آس پاس پوپ کے لئے سخت حفاظتی اقدامات10 April, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||