پوپ جان پال: حملہ آور کی رہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی نےاس قیدی کو رہا دیا ہے جس نے تقریباً پچیس برس پہلے پوپ جون پال دوئم پر حملہ کر کے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ محمد علی کو پوپ جان پال نےمعاف کر دیا تھا لیکن اٹلی کی حکومت نے اس کو انیس برس تک جیل میں رکھا اور سنہ دو ہزار میں ترکی کے حوالے کر دیا جہاں وہ اور جرائم میں مطلوب تھا۔ محمد علی نے انیس سو اکیاسی میں سینٹ پیٹر سکوائر میں عیسائیوں کے روحانی پیشوا جان پال پر اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ کھلی گاڑی میں بیٹھے ہاتھ ہلا رہے تھے۔ پوپ جان پال نے جو اس حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے دو سال بعد جیل میں محمد علی سے ملاقات کی تھی اور انہیں معاف بھی کر دیا تھا۔ ترکی کی ایک عدالت نے اب یہ درخواست منظور کر لی ہے کہ محمد علی نے اپنے جرائم کی سزا بھگت لی ہے۔محمد جن کی عمر اڑتالیس برس ہے۔ آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ محمد علی نے پوپ پر کیوں حملہ کیا تھا کیونکہ مجرم نے اپنے عمل کے مختلف جواز پیش کیے ہیں اور کئی مرتبہ عدالت میں ذہنی عدم توازن کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ ماضی میں یہ دعوے بھی کیے گئے ہیں کہ پوپ پر حملے کے پسِ پشت سابق سویت یونین کے ادارے کے جی بی کا ہاتھ تھا۔ اٹلی کی جیل سے رہائی کے بعد انہیں ترکی میں اس لیے جیل میں رکھا گیا تھا کہ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے انیس سو اناسی میں بائیں بازو کے ترک اخبارنویس کو قتل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ان پر دو بینکوں میں ڈاکہ ڈالنے کا بھی الزام تھا۔ | اسی بارے میں پوپ جان کون اور کیا تھے02 April, 2005 | آس پاس پوپ جان پال پر فلم کا افتتاح17 April, 2005 | آس پاس پوپ کے لئے سخت حفاظتی اقدامات10 April, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||