عراق : کار بم دھماکے، ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد اور کربلا میں کار بم دھماکوں میں چوبیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ بغداد میں ہی پولیس کوگولیوں سے چھلنی تینتالیس لاشیں ملی ہیں جنہیں بظاہر فرقہ وارانہ تشدد کی واداتوں میں ہلاک کیا گیا ہے۔ کربلا کا بم دھماکہ شہر کے مرکزی حصے میں صوبائی حکومت کے دفاتر کے پاس ہوا اور اس میں پندرہ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔ پولیس نے ابتداء میں کہا تھا کہ شہر کے مرکزی بس اڈے کے نزدیک ہونے والے اس دھماکے میں اکیس افراد مارے گئے ہیں جبکہ پچاس سے زیادہ زخمی ہیں۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب کربلا میں دھماکہ ہوا اس وقت بغداد میں بھی دو کار بم پھٹے جن میں کم ازکم نو افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے۔ کربلا میں دھماکہ اس وقت ہوا جب علاقے میں جمعہ کی چھٹی کے بعد کام پر جانے والے افراد کا رش تھا۔ دھماکے کی جگہ سے دھواں بھی اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
کربلا شیعہ مسلک کے افراد کے لیئے انتہائی مقدس شہر ہے۔ یہاں پہلے بھی مزاحمت کار حملے کرتے رہے ہیں اور اس تازہ حملے کو فرقہ وارانہ حملوں کی ہی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ بغداد میں پہلا بم دھماکہ احمدیہ ڈسٹرکٹ میں ہوا اور اس کا نشانہ فوج کی ایک گشتی پارٹی تھی۔ اس دھماکے میں آٹھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دوسرے دھماکہ کا نشانہ پولیس اہلکار تھے اور اس دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ دریں اثناء بصرہ میں ہفتے کو برطانوی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے بعد شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد اتوار کو حالات پرسکون ہیں۔ | اسی بارے میں بصرہ میں کرفیو: پانچ عراقی ہلاک 06 May, 2006 | آس پاس بصرہ میں ہنگامے، پانچ عراقی ہلاک، کئی زخمی06 May, 2006 | آس پاس بغداد: خودکش دھماکہ، نو ہلاک04 May, 2006 | آس پاس تشدد اور بم دھماکے،15 ہلاک20 March, 2006 | آس پاس کربلا دھماکہ،سخت حفاظتی انتظامات 19 March, 2006 | آس پاس عراق: حملوں میں 80 افراد ہلاک05 January, 2006 | آس پاس بغداد کار بم حملے میں گیارہ ہلاک19 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||