BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 May, 2006, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بصرہ میں ہنگامے، پانچ عراقی ہلاک، کئی زخمی
بصرہ
ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں پانچ عراقی مارے گئے ہیں۔
بصرہ میں ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد شہر میں شروع ہونے والے ہنگاموں میں پانچ عراقی مارے گئے ہیں۔

عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگاموں میں پانچ مقامی لوگ ہلاک ہوئے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ مقامی باشندے کس کی فائرنگ سے ہلاک ہو ئے ہیں۔
برطانوی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں کئی برطانوی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم برطانوی وزیر دفاع ڈیس براؤن نے کہا کہ حادثے کی وجہ واضح نہیں ہے۔

مقامی پولیس نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کو ایک میزائل سے مار گرایا گیا اور کم سے کم چار افراد مارے گئے ہیں۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ حادثے کے بعد جب برطانوی فوجی وہاں پہنچے تو فوجیوں اور مسلح گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

بصرہ میں مقامی پولیس نے صبح تک کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اگر حالات بہتر ہوئے تو کرفیو ختم کردیا جائے گا۔

بعض اطلاعات کے مطابق مسلح گروہوں کا تعلق ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا مہدی آرمی سے ہے۔ ٹیلی ویژن کی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ جائے وقوع پر پہنچنے والی برطانوی بکتربند فوجی گاڑی کو آگ لگادی گئی اور مقامی لوگ خوشی منارہے تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے مقامی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹرکو ایک راکٹ سے نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کا ملبہ بصرہ شہر میں ایک گھر پر گرا ہے۔

بصرہ میں برطانوی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ ہم یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ بصرہ میں ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہوا ہے۔ برطانوی فوجی جائے حادثہ پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیوں میں مدد کر رہے ہیں۔‘

گلیوں میں دوڑتے اور ہوائی فائرنگ کرتے برطانوی فوجی

برطانوی وزارتِ دفاع نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد برطانوی فوجیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

عراقی ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی تصاویر میں ہیلی کاپٹر کے ملبے سے شعلے بلند ہوتے دکھائے گئے ہیں جبکہ برطانوی فوجی گلیوں میں دوڑتے اور ہوائی فائرنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ٹی وی پر ان سینکڑوں عراقیوں کو بھی دکھایا گیا جو کہ ہیلی کاپٹر کے ملبے کے نزدیک موجود ہیں اور اس پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ بصرہ کے علاقے میں اگرچہ بم دھماکے عام ہیں مگر راکٹ حملے کبھی کبھار ہی ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ ہیلی کاپٹر پر راکٹ سے حملہ کیا گیا اور یہ تین برس قبل بصرہ میں برطانوی فوج کی تعیناتی کے بعد سے اب تک کا سب سے قابلِ ذکر حملہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد