ایرانی، ترک افواج عراقی سرحد پر جمع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق نے اپنی سرحد پر ایرانی اور ترک افواج کے جمع کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے کہا کہ ایران کو عراقی خدشات کے بارے میں بتادیا گیا ہے لیکن کسی تنازعے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے گا۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی افواج نے عراق کی شمال مشرقی سرحد کے پار بمباری کی ہے جس کا مقصد عراق کے کرد علاقوں میں پناہ لینے والے ایرانی کرد گروہوں کو نشانہ بنانا تھا۔ ترکی نے بھی عراق کے ساتھ اپنی سرحد پر افواج جمع کر رکھی ہے۔ تاہم عراقی وزیر خارجہ نے سرحد پر کشیدگی کو اہم نہیں قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور ترکی شاید اپنی افواج سرحد پر عراق میں ممکنہ عدم استحکام کے بحران سے نمٹنے کے لیے اکٹھا کررہے ہوں۔ عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کوئی ضروری نہیں کہ حکومت میں سنی رہنماؤں کی شرکت سے تشدد میں کمی آجائےگی۔ انہوں نے کہا کہ عراق شمالی آئرلینڈ کی طرح نہیں ہے جہاں چند تنظیمیں آمنے سامنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں ’حالات کافی مختلف اور زیادہ مشکل ہیں۔‘ امید کی جارہی ہے کہ اگلے ہفتے نئی حکومت کا اعلان کیا جائے گا۔ عراق کے نامزد وزیراعظم نوری مالکی حکومتی عہدوں اور وزارتوں کی تقسیم کے بارے میں فیصلہ سازی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں جواد المالکی نئے وزیر اعظم نامزد21 April, 2006 | آس پاس عراق میں پیش رفت اہم: بش23 April, 2006 | آس پاس کردوں کی نسل کشی ہوئی: عدالت23 December, 2005 | آس پاس ڈونلڈ رمزفیلڈ اچانک بغداد پہنچے26 April, 2006 | آس پاس ’عراقی گروہوں کو غیر مسلح کریں‘27 April, 2006 | آس پاس عراقی نائب صدر کی بہن قتل27 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||