جواد المالکی نئے وزیر اعظم نامزد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں شیعہ جماعتوں کے اتحاد نے حکومت سازی کے عمل میں جاری سیاسی تعطل کو دور کرنے کے لیئے جواد المالکی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ یونائیٹڈ عراق الائنس میں شامل سات میں سے چھ جماعتوں نے الدعوا پارٹی سے تعلق رکھنے والے جواد المالکی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کی تجویز کی حمایت کی۔ اطلاعات کے مطابق سنی فرقے سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے جواد المالکی کی نامزدگی کی حمایت کر دی ہے۔ عراق کی سنی اور کرد حماعتوں کی طرف سے ابراہیم جعفری کی نامزدگی کی مخالفت کی وجہ سے عراق میں حکومت سازی کا عمل کئی ماہ سے سیاسی تعطل کا شکار تھا۔ نئے وزیر اعظم کی نامزدگی کے بعد اب عراقی پارلیمان کا اجلاس ہفتے کو منعقد کیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ اب عراقی پارلیمان اہم حکومتی عہدوں کے لیے، جن میں صدر اور سپیکر کے عہدے بھی شامل ہے امیدوار منتخب کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ جمعہ کی صبح عراق میں شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیا گیا۔ شیعہ اتحاد عراقی انتخابات میں کامیابی کے بعد سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرا تھا لیکن چار ماہ میں حکومت بنانے میں ناکامی کے بعد نامزد وزیر اعظم ابراہیم جعفری پر دباؤ بڑھتا رہا کہ وہ کسی ایسے رہنما کے لیے جگہ خالی کر دیں جن کو سنی آبادی اور کردوں کا اعتماد حاصل ہو۔ وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے شیعہ جماعتوں کے اتحاد کے سامنے اپنا نام بھی پیش کیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا اگر ان کو بہتر نہیں سمجھتے تو کوئی نیا رہنما چن لیں۔ ابراہیم جعفری نے قوم سے خطاب سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شیعہ اتحاد کا فیصلہ قبول کریں گے۔ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ابراہیم جعفری کی نامزدگی کو سنی عرب، کردوں اور شیعہ جماعتوں کے اتحاد یونائیٹد عراقی الائنس کے کچھ ارکان نے مسترد کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں ’جعفری کو وزیر اعظم نہ بنایا جائے‘10 April, 2006 | آس پاس نام پراختلاف، اجلاس ملتوی17 April, 2006 | آس پاس مبارک کا بیان، جعفری کی تنقید09 April, 2006 | آس پاس شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ09 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||