BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 April, 2006, 01:41 GMT 06:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں پیش رفت اہم: بش
جواد المالکی
جواد المالکی کے لیے عراق میں سکیورٹی بہتر کرنا پہلا چیلنج ہوگا
امریکی صدر جارج بش نے عراق کے سیاسی رہنماؤں کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں وہ ملک میں ایک نئی اتحادی حکومت قائم کرنے کے لیے راضی ہوگئے ہیں۔

جارج بش کا یہ بیان عراق میں شیعہ اتحاد کے رہنماؤں کی جانب سے ابراہیم الجعفری کو ہٹاکر جواد المالکی کو وزیراعظم کے لیے نامزد کرنے کے بعد آیا ہے۔

امریکی صدر نے ایک اتحادی حکومت قائم کرنے کے سیاسی رہنماؤں کے فیصلے کو جمہوریت کی جانب اور دہشت گردی مخالف امریکی جنگ میں اہم قرار دیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر اتحادی حکومت عراق میں قائم ہو تو تشدد پر کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپنی نامزدگی کے بعد جواد المالکی نے کہا کہ وہ فرقہ وارانہ اور قبائلی تفریق سے ہٹ کر ایک ایسی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے جس میں سب کے لیے جگہ ہو۔

گزشتہ چند مہینوں میں سے عراق میں حکومت سازی اس بات پر تعطل کا شکار تھی کہ سنی اور کرد جماعتیں حکومت میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگیں جب تک انتخابات میں اکثریت سے کامیاب ہونے والا شیعہ اتحاد وزیراعظم الجعفری کی جگہ کوئی دوسرا مؤثر رہنما نہیں منتخب کرلیتا۔

سنیچر کو شیعہ جماعتوں کے اتحاد نے حکومت سازی کے عمل میں جاری سیاسی تعطل کو دور کرنے کے لیے جواد المالکی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا۔ یونائیٹڈ عراق الائنس میں شامل سات میں سے چھ جماعتوں نے الدعوا پارٹی سے تعلق رکھنے والے جواد المالکی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کی تجویز کی حمایت کی۔

اطلاعات کے مطابق سنی فرقے سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے جواد المالکی کی نامزدگی کی حمایت کر دی ہے۔ اس سے قبل ابراہیم الجعفری وزیراعظم کے عہدے سے علیحدہ ہونے پر رضامند ہوگئے۔ ان کا تعلق بھی الدعوا پارٹی سے تھا۔

نئے وزیر اعظم کی نامزدگی کے بعد اب عراقی پارلیمان کا اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ اب عراقی پارلیمان اہم حکومتی عہدوں کے لیے، جن میں صدر اور سپیکر کے عہدے بھی شامل ہیں، امیدوار منتخب کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ جواد المالکی کے پاس ایک مہینہ ہوگا جس کے اندر انہیں اپنی کابینہ تشکیل دینی ہوگی اور اس کی منظوری پارلیمان سے ضروری ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد