 | | | وزیراعظم مالکی کے لیئے پہلا چیلنج سکیورٹی اور استحکام کا قیام ہے |
عراق کی پارلیمنٹ نے ایک نئی حکومت کی منظوری دیدی ہے جس میں شیعہ، کرد اور سنی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی حکومت سازی پر جنوری کے عام انتخابات سے جاری رہنے والا تعطل اب ختم ہوگیا ہے۔ تاہم اس کل جماعتی حکومت میں قومی سلامتی، داخلی امور اور دفاع کی وزارتوں کے لیئے امیدواروں کے ناموں پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔ وزارت داخلہ ابھی وزیراعظم نوری مالکی کے پاس ہوگی جبکہ نائب وزیراعظم سلام زوبعی وزارت دفاع کے انچارج ہوں گے۔ وزیراعظم نوری مالکی شیعہ ہیں جبکہ نائب وزیراعظم سلام زوبعی سنی ہیں۔ ہوشیا زیباری عراق کے وزیر خارجہ رہیں گے۔ نئی کابینہ میں کل سینتیس اراکین ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ سن 2003 میں امریکی حملوں کے بعد یہ باقاعدہ حکومت عراق میں سیاسی انتشار پر کنٹرول حاصل کرسکتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کا کہنا ہے کہ نئی متحدہ حکومت کا آغاز اچھا نہیں رہا۔  | سکیورٹی اور استحکام  عراقی میں سیاسی استحکام اور سکیورٹی قائم کرنا میری حکومت کی ترجیح ہے۔  وزیراعظم نوری مالکی |
پارلیمنٹ میں جب وزیراعظم مالکی کابینہ کے ناموں کا اعلان کرنے کے لیئے اٹھے تو ڈائیلاگ نامی سنی جماعت کے سربراہ نے مائکروفون اپنے ہاتھ میں لے لیا اور وزارتوں کی تقسیم پر ہونے والے مذاکرات میں بدعنوانیوں کی بات کی۔ ڈائیلاگ ایک چھوٹی سنی جماعت ہے۔جب وزیراعظم مالکی نے کابینہ کے وزراء کا اعلان کرنا شروع کیا تو 275 رکنی پارلیمنٹ کے اراکین نے ہر نام پر تالیاں بجائیں اور نئے وزراء نے اسٹیج پر اپنا مقام سنبھالا۔ لیکن پھر ایک سنی جماعت کے رکن نے، جن کی پارٹی حکومت میں شامل ہے، اس بات پر واک آؤٹ کیا کہ وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کی آسامیاں کیوں نہیں پُر کی گئیں۔ اس موقع پر پارلیمنٹ سے خطاب میں وزیراعظم مالکی نے کہا کہ سیاسی استحکام اور سکیورٹی ان کی حکومت کی ترجیحات ہوں گی۔ لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ داخلی اور دفاعی امور کی وزارتوں کے خالی رہنے سے ملک میں سکیورٹی کا قیام ایک چیلنج ثابت ہوگا۔ پارلیمنٹ کے افتتاح سے قبل ہی بغداد کے ایک شیعہ ضلع میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں کم سے کم انیس افراد ہلاک اور اٹھاون زخمی ہوگئے۔ ایک دوسرے واقعے میں ایک خودکش بمبار نے پانچ لوگوں کو ہلاک اور دس کو زخمی کردیا۔
|