’بلیئرمخالف تحریک تباہ کن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چانسلر گورڈن براؤن نے لیبر پارٹی کے رہنماؤں سے متحد رہنےکی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ٹونی بلیئر کے خلاف ’بغاوت‘ تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ ان کا یہ بیان لیبر پارٹی کے پچاس اراکینِ پارلیمان کے دستخط شدہ اس خط کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے جس میں وزیرِاعظم ٹونی بلیئر سے عہدہ چھوڑنے کی تاریخ مانگی گئی ہے۔ ابھی تک اس کچھ خط کے اقتباسات میڈیا کو ملے ہیں۔ لیبر پارٹی کے پچاس اراکین نے ’بی بی سی ریڈیو فور‘ کو بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹونی بلیئر اپنا عہدہ چھوڑنے کی تاریخ کا اعلان کر دیں۔ لیبر پارٹی کی جانب سے اس خط کو بلیئر کو ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ چانسلر براؤن نے کہا کہ کھوئی ہوئی نشستیں دوبارہ حاصل کرنے کے لیئے لیبر جماعت میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاہم یہ تبدیلی طریقے اور رواج کے مطابق آنی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’صرف چہرے نہیں بلکہ پالیسیاں بھی بدلنے کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ چھوڑنے کی تاریخ کا فیصلہ کرنا وزیرِاعظم کا ذاتی کام ہے اور اس سلسلے میں کسی کو بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم کے خلاف بغاوت ہوتی نہیں دیکھنا چاہتے۔ گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ’میں بہت عرصے سے سیاست میں ہوں اور میں گزشتہ پچیس برس میں لیبر پارٹی میں ہونے والی تقسیم ، انتہاپسندوں کی بالادستی اور معتدل مزاج سیاستدانوں کی شکست کا شاہد ہوں۔ یہ ایک تباہی کی مکمل ترکیب ہے‘۔ یاد رہے کہ اگرچہ ٹونی بلیئر پر اقتدار چھوڑنے کے لیئے دباؤ بڑھتا جار ہا ہے تاہم انہوں نے کابینہ میں اہم تبدیلیاں کر کے یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ اقتدار سے فوری طور پر الگ نہیں ہوں گے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||