BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 May, 2006, 13:13 GMT 18:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی کابینہ میں’بڑی‘ تبدیلیاں
چارلس کلارک
چارلس کلارک کو کابینہ سے فارغ کر دیا گیا ہے
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اہم وزراء کے سکینڈلوں اور مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کی بدتر کارکردگی کے بعد اپنی کابینہ میں متعدد اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کے حالیہ اقدامات کو اپنی جماعت کی تیزی سے کم ہوتی مقبولیت کو بچانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ان تبدیلیوں کے نتیجے میں جہاں چارلس کلارک کو وزیرِ داخلہ کے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں وہیں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو برطانیہ میں وزیرِ خارجہ کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔

مارگریٹ بیکٹ کو جیک سٹرا کی جگہ محکمۂ خارجہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور جیک سٹرا کو قائد ایوان بنا دیا گیا ہے۔ سٹرا کی وزیرِ خارجہ کے عہدے سے سبکدوشی کو غیر متوقع قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی مجرموں کی ملک بدری کے معاملے میں شدید تنقید کا شکار ہونے والے وزیرِ داخلہ چارلس کلارک کی جگہ وزیرِ دفاع جان ریڈ نے لی ہے جبکہ وزیرِ تجارت ایلن جانسن کو وزارتِ تعلیم کا چارج دیا گیا ہے۔’

جیک سٹرا کو قائدِ ایوان بنا دیا گیا ہے

برطانیہ کے نائب وزیراعظم جان پریسکاٹ کو اپنی سیکرٹری کے ساتھ جنسی سکینڈل میں ملوث ہونے کے باوجود ان کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے تاہم ان سے دیگر کئی ذمہ داریاں واپس لے لی گئی ہیں۔

برطانوی وزیرِاعظم نے کابینہ میں تبدیلیوں پر کہا ہے کہ انہیں چارلس کلارک کو’ کھونے‘ کا دکھ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے نتیجے میں چارلس کے لیئے اس عہدے پر کام کرتے رہنا یہ بہت مشکل تھا‘۔

چارلس کلارک نے اس موقع پر کہا ہے کہ وہ وزیرِاعظم کے فیصلے سے متفق نہیں تاہم وہ حکومتی رکنِ پارلیمان کی حیثیت سے اپنا فرض نبھاتے رہیں گے اور حکومت کی حمایت کرتے رہیں گے۔

چار مئی کے مقامی انتخابات میں اکثریتی نشستیں جیتنے والی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ڈیوڈ کیمرون نے کابینہ میں تبدیلی پر کہا ہے کہ’صرف اس تبدیلی سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنی ملکی قیادت تبدیل کرنی ہو گی‘۔

یاد رہے کہ مقامی انتخابات میں حکمران لیبر جماعت کو اپنی تاریخ کے چند بدترین نتائج میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسے ڈھائی سو نشستوں اور اٹھارہ کونسلوں میں اکثریت سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اگر جمعرات کو ہونے والے انتخابات قومی سطح پر ہوتے تو اس میں کنزورویٹو جماعت کو چالیس فیصد، لبرل ڈیموکریٹس کو ستائیس فیصد اور لیبر کو صرف چھبیس فیصد ووٹ ملتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد