دہشتگردی: نئے قانون کا بل منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں دارالعوام کے ارکان نے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی جانب سے دہشتگردی روکنے کے متنازعہ قانون کی حمایت کردی ہے۔ گزشتہ ماہ دارالامراء نے اس مجوزہ بل کے خلاف رائے دہی کی تھی تاہم اب 277 کے مقابلے میں 315 ووٹ سے اس قانون کو دارالعوام نے منظور کرلیا ہے۔ بلیئر کا کہنا ہے کہ بل کے لیے حمایت ’طاقت کا اشارہ‘ ہے۔ اس نئے قانون کے تحت ایسے پلے کارڈز اٹھانا غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا جن میں لندن پر بم حملے کرنے والوں کے لیے حمایتی جملے درج ہوں گے۔ تاہم لبرل ڈیموکریٹس اور ٹوریز اس قانون کے خلاف ہیں۔ سترہ لیبر ارکان نے بل کے خلاف ووٹ دیا جبکہ کچھ نے رائے دہی سے گریز کیا۔ دہشتگردی سے متعلق قانون لندن میں جولائی کے بم دھماکوں کے بعد متعارف کروایا گیا تھا۔ اس کی ایک شق یہ بھی ہے کہ پولیس مقدمہ قائم کیے بغیر ملزمان کو نوے دن تک اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔ ارکان پارلیمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کو ویب سائٹس سے دہشتگردی سے متعلق مواد ہٹانے کے لیے جج سے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ رائے دہی پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹونی بلیئر نے کہا کہ پارلیمان چاہتی ہے کہ نہ صرف ان افراد سے نمٹا جائے جو براہ راست دہشتگردی میں ملوث ہیں بلکہ ان سے بھی جو ایسی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہوم سیکرٹری چارلز کلارک نے کہا کہ ’یہ قانون اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے جو نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جس میں وہ سمجھتے ہیں کہ خودکش بمباری ایک مقدس اور نیک عمل ہے‘۔ | اسی بارے میں دہشت گردی بل پر بلیئر کو شکست09 November, 2005 | پاکستان برطانوی شناختی کارڈ: مسودہ منظور28 June, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: 38 ہلاک، 700 زخمی07 July, 2005 | آس پاس برطانوی پارلیمان کی 790 سالہ تاریخ12 April, 2005 | آس پاس برطانیہ کی منفرد سیاسی جماعت 29 April, 2005 | قلم اور کالم نئی برطانوی کابینہ، نیا وزیر دفاع 06 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||