دہشت گردی بل پر بلیئر کو شکست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی پارلیمان نے ٹونی بلیئر کی طرف سے پیش کیا گیا ’دہشت گردی بل‘ مسترد کر دیا ہے۔ بلیئر حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے اس بل کے تحت دہشت گردی کے شبہ میں پکڑے گئے افراد کو نوے دن تک بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا جا سکتا تھا۔ یہ انیس سو ستانوے میں اقتدار میں آنے کے بعد دارالعوام میں ٹونی بلیئر کی پہلی شکست ہے۔ بل کی مخالفت میں تیس سو بائیس ووٹ پڑے اور اس کے حق میں دو سو اکیانویں ووٹ ڈالے گئے۔ اس قانون کا مسودہ سات جولائی کو لندن میں ہونے والی بم دھماکوں کے بعد بنایا گیا تھا۔ حزبِ مخالف کے رہنماؤں نے اس بل کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مسلمان اور ناراض ہو جائیں گے اور مسلم برادری سے معلومات لینا اور مشکل ہو جائے گا۔ بل پر بحث شروع ہونے سے کچھ دیر قبل ٹونی بلیئر نے پارلیمان کو بتایا کہ سات جولائی کے بم حملوں کے بعد سے اب تک پولیس برطانیہ میں مزید دو حملوں کے منصوبے ناکام بنا چکی ہے۔ بلیئر حکومت کے لیے یہ بل اتنا ضروری تھا کہ وزیرِ خزانہ گورڈن براؤن اور اور وزیرِ خارجہ جیک سٹرا کو ووٹ میں حصہ لینے کے لیے بیرون ممالک دوروں سے جلدی واپس آنا پڑا۔ | اسی بارے میں ٹونی بلیئر: سخت قوانین کا دفاع16 September, 2005 | آس پاس لندن بمبار کی ویڈیو جاری02 September, 2005 | آس پاس پابندیوں کی مخالفت 06 August, 2005 | آس پاس شدت پسندوں کو نکال دیں گے: بلیئر05 August, 2005 | آس پاس ’بلیئر لندن دھماکوں کے ذمہ دار ہیں‘04 August, 2005 | آس پاس ’لندن حملوں کی وجہ عراق نہیں‘26 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: کب کہاں کیا ہوا؟21 July, 2005 | آس پاس دھماکے بربریت ہیں: بلیئر07 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||